امریکہ کے تین سابق صدور افغان پناہ گزینوں کی امداد کے لئے سرگرم



امریکہ کے سابق صدر براک اوباما، بل کلنٹن اور جارج بش ایک نئے گروپ کے تحت ان افغان پناہ گزینوں کی مدد کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں جو امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ میں آباد کئے جا رہے ہیں۔

امریکہ میں کاروباروں اور امدادی گروپوں کے اتحاد ‘ویلکم یو ایس’ نے کہا ہے کہ منگل کے روز سے امریکہ کے یہ سابق صدور اور ان کی بیگمات اس گروپ کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔

اتحاد نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ امداد اور رضاکاروں کو حرکت میں لاکر ان ہزاروں افغان باشندوں کی امریکہ میں آبادکاری میں مدد دے گا جو افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد امریکہ لائے گئے ہیں۔

ان میں بہت سے پناہ گزین ایسے ہیں جو 20 برس کی جنگ کے دوران، افغانستان میں امریکہ اور اتحادی فوجیوں کے ساتھ یا امریکی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور اگر وہ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں رہتے تو ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا۔

امریکہ کے 43ویں صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک بیان میں کہا ہے کہ ہزاروں افغان شہری ایک محفوظ دنیا کی کوشش میں ہمارے ساتھ اگلے محاذ پر کھڑے رہے اور اب انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں ‘ویلکم یو ایس’ کی مدد اور اس کام پر فخر ہے جو وہ افغان خاندانوں کو دوبارہ آباد کرنے اور انکی زندگیوں کی دوبارہ تعمیر کے لئے کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، “ہم اپنے نئے افغان ہمسایوں اور باقی دنیا کو یہ دکھانے کے لیے تیار ہیں کہ کیسے خیر مقدم کرنے کا جذبہ اور کشادہ دلی ہمارے ملک کو عظیم تر بنانے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔”

خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ سابق صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ سابق وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن اور سابق صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ سابق خاتونِ اول مشیل اوباما کے خیالات جاننے کے لئے ان کے نمائندوں سے رابطہ کیا گیا، لیکن فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔

‘ویلکم یو ایس’ نامی اس کونسل کو 80 سے زیادہ امریکی شخصیات،اداروں اور کاروباروں کی حمایت حاصل ہے جن میں مائیکروسافٹ کارپوریشن، سٹار بکس کارپوریشن، سی وی ایس ہیلتھ کارپوریشن اور ائیر بی این بی نامی کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی غیر منافع بخش تنظیمیں، سابق فوجیوں کے گروپ اور نو آبادکاری کے ادارے بھی اس میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ریپبلکن اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے متعدد موجودہ اور سابق گورنر اور امریکہ کے ریاستی اور مقامی لیڈر کہہ چکے ہیں کہ وہ پناہ گزینوں کو اپنے ہاں خوش آمدید کہیں گے۔ تاہم، امیگریشن کے مسائل فی الحال موجود ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں ہزاروں افغان شہریوں کو ہوائی جہازوں کے ذریعے افغانستان سے نکالا گیا ہے اور اس پر کافی تنقید بھی ہوئی ہے۔ لیکن،صدر بائیڈن کی انتظامیہ 50,000 کے لگ بھگ پناہ گزینوں کو امریکی فوجی اڈوں پر رہائش مہیا کر رہی ہے اور دیگر امریکہ آنے کے بعد اسی ائیرپورٹ پر امریکی عمارتوں میں رکھے گئے ہیں۔

اسی دوران خسرہ کی وباء کے پیشِ نظر افغانستان سے امریکہ کے لئے مزید پروازیں ابھی معطل کر دی گئی ہیں۔

(اس خبر میں معلومات رائٹرز سے لی گئی ہے)



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply