امریکی سینیٹ سے ایک ٹریلین ڈالر کے انفراسٹرکچر کا بل منظور



امریکی سینیٹ نے منگل کے روز اپنے منعقدہ اجلاس میں ایک ٹریلین ڈالر مالیت کے ​اہم انفراسٹرکچر کے تعمیراتی بل کی منظوری دے دی۔ بل کو دونوں سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔

سینیٹ کے اجلاس میں بل پر ووٹنگ کے دوران ڈیموکریٹ پارٹی کے 50 جب کہ ری پبلکن پارٹی کے 19 سینیٹروں نے قانون سازی کی حمایت کی، جن میں ریپبلکن پارٹی کے اقلیتی قائد مچ میکونیل بھی شامل ہیں۔

اس سال 20 جنوری سے اب تک،جب سے بائیڈن انتظامیہ نے اقتدار سنبھالا ہے، ایسے مواقع کم ہی آئے ہیں جب دونوں سیاسی جماعتوں کے قانون ساز کسی ایک معاملے پر یک رائے ہوئے ہوں۔

زیادہ تر مواقع پر سینیٹ کے ایوان میں ارکان کی جانب سے پارٹی کی بنیاد پر نااتفاقی حائل رہی ہے،جب کہ پارٹی قائدین کی یہ کوششیں بھی جاری رہی ہیں کہ قومی تعمیر و ترقی کے اہم معاملے پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔

تعمیرات کا نیا اخراجاتی منصوبہ تقریباً 550 ارب ڈالر پر مشتمل ہو گا جس میں سڑکیں، پانی کا وسیع تر نظام اور براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی ترسیل اور وسائل میں بہتری لانے کے منصوبے شامل ہیں۔

منگل کے روز منعقد ہونے والے اجلاس سے قبل ڈیموکریٹ اور ری پبلکن پارٹی کے ایک گروپ نے آپس میں تفصیلی مذاکرات کیے۔

تاہم، اب بھی دونوں سیاسی جماعتوں میں ایسے قانون ساز موجود ہیں جو نئی قانون سازی کی حمایت نہیں کرتے، جن میں ڈیموکریٹ پارٹی کے سینیٹرز بھی شامل ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ منظور کردہ بل میں دی گئی تجاویز قوم کی اصل ضروریات پوری نہیں کرتیں؛ جب کہ اب بھی کچھ ری پبلکن قانون ساز بل کے اسکوپ اور اخراجات سے متعلق تجاویز سے اتفاق نہیں کرتے۔

سینیٹ کے ایوان میں دونوں سیاسی جماعتوں کے ارکان کی تعداد مساوی ہے۔

اس قانون سازی کی سینیٹ سے منظوری کے بعد، تعمیرات سے متعلق یہ بل ایوانِ نمائندگان میں پیش ہو گا جہاں قانون ساز اسے ستمبر میں زیر غور لائیں گے۔

سینیٹ میں اکثریتی ڈیموکریٹ جماعت کے قائد،چک شومر نے کہا ہے کہ ”مجھے یہ کہنے دیجئے کہ تعمیراتی منصوبے کے بل پر اتفاق رائے کے معاملے پر طویل عرصہ لگ گیا، تاہم آپس بارے میں گفت و شنید جاری رہی۔ لیکن اس کی منظوری امریکہ بھر کے لیے خوشی کی ایک نوید ہے اور سینیٹ ہمیشہ اس بات پر فخر کرے گی کہ ہم نے یہ اہم قانون سازی منظور کی”۔

ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر، روب پورٹمین نے،جو دو طرفہ مذاکرات میں سرگرمی سے حصہ لیتے رہے ہیں، تعمیراتی منصوبے کو ملکی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے کا نام دیا ہے۔

رات گئے ایک ٹوئٹ میں، پورٹمین نے کہا کہ ”کئی عشروں تک تساہل سے کام لینے کے بعد آخرکار آج ہم اس قابل ہیں کہ اپنے ملک کے ایک محفوظ، قابل اعتماد اور جدید ترین تعمیراتی منصوبے کی منظوری دے رہے ہیں، جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے”۔

شومر نے پیر کے روز کہا کہ انفراسٹرکچربل پر رائے دہی کے بعد سینیٹ ساڑھے تین ٹریلین ڈالر کے دیگر منصوبوں کی جانب دھیان مرکوز کرے گی، اس 10 سالہ منصوبے میں یونیورسل پری اسکول، کمیونٹی کالج کی مفت تعلیم، کم لاگت گھروں کی فراہمی اور صاف قابل تجدید توانائی کے وسائل کے امور شامل ہوں گے۔ سینیٹ میں اس وسیع تر ترقیاتی منصوبے کو بھی ڈیموکریٹس کی حمایت حاصل ہے جب کہ ری پبلکن اس کے حق میں نہیں ہیں۔

نئی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، ڈیموکریٹس آئندہ پیش ہونے والےبجٹ پر بھی مفاہمت کا انداز اپنانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہو گا کہ منظوری کے لیے بل کو سادہ اکثریت درکار ہو گی، اور ‘فلی بسٹر’ کی رکاوٹ درپیش نہیں آئے گی، جو ایوان کی جانب سے ووٹنگ میں رکاوٹ اور تاخیر کا موجب بنتا رہا ہے۔

آئندہ مرحلے کے دوران، دونوں ایوانوں میں ڈالر ساڑھے تین ٹریلین کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر بحث مباحثہ کئی ماہ تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

[اس خبر میں شامل معلومات ایسو سی ایٹڈ پریس اور رائٹرز سے لی گئی ہے]



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply