امریکی سینیٹ نے یوکرین پر حملے کی صورت میں روس پر سخت ترین پابندیوں پر غور شروع کر دیا



امریکی سینیٹ میں ایوان کے دونوں جانب سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے مشترکہ طور پر تعزیراتی اقدام کی تجویز پیش کی ہے جس کے متعلق امور خارجہ کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یوکرین پر حملے کی صورت میں روس کو “تمام تعزیرات میں سب سے بڑی تعزیرات “کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

کمیٹی کے چیئرمین رابرٹ مینڈیز کے بقول، سینیٹر ایسا پیکیج مرتب کرنے کے اقدام کی تجویز پر متفق ہیں جس سے یوکرین پر جارحیت کی صورت میں روس کے اعلیٰ سطحی عہدے داروں سے لے کر عام روسی شہری تک کواس کی انتہائی سخت مالی قیمت چکانی پڑے گی۔

مینڈیز نے اتوار کے روز سی این این کے پروگرام ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ شو کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ تجویز کردہ پیکیج کے مطابق روس کے اہم بینکوں کے خلاف سخت پابندیاں عائد ہوں گی، روس کی معیشت ناکارہ ہو کر رہ جائے گی، جس کا اثر روس کے ایک عام شہری کے اکاؤنٹ اور پینشن تک پر پڑے گا۔

ساتھ ہی، مینڈیز نے کہا کہ انھیں توقع ہے کہ سینیٹ یوکرین کو مہلک ترین اسلحہ فراہم کرنے کی سفارش کے اقدام کے علاوہ روس کی معیشت کے تمام کلیدی شعبہ جات پر تعزیرات عائد کرنے کے حق میں ووٹ دے گی، اس کے علاوہ روس پر قدغن لاگو کی جائے گی تا کہ وہ بین الاقوامی منڈی میں ریاستی قرضہ جات دینے کی استعداد کے قابل نہ رہے۔

سینیٹ کی جانب سے یہ اقدام اس لیے ضروری ہو گیا ہے چونکہ روس نے یوکرین کے شمال، مشرق اور جنوب کی سرحدوں پر 100000سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔ 2014ء میں روس نے یوکرین کے خطے کرائمیا پر حملہ کرکے اس کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اس کے علاوہ، یوکرین کے علاقے ڈوناباس میں روس کی حمایت میں جاری بغاوت کو فروغ دیا، جس کی وجہ سے گزشتہ کئی سالوں سے خطے میں تنازع کی زد میں ہے۔

مینڈیز کی حمایت کرتے ہوئے، سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کے اعلیٰ رینکنگ ری پبلیکن، سینیٹر جیمز رِش نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ روس نے ابھی تک یوکرین پر حملے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم، انھوں نے کہا کہ روس کو متنبہ کرنے کے لیے ضروری ہوگا کہ اس کے خلاف سخت معاشی پابندیوں کا اقدام تجویز کیا جائے۔

تاہم، سب ماہرین اس بات سے متفق نہیں دکھائی دیتے کہ امریکہ کی جانب سے تعزیرات لاگو کرنے سے روس اور پوٹن کو سزا مل سکتی ہے، جیسا کہ قانون سازوں کی رائے ہے۔

کرسٹینا برزینا امریکہ کے ‘جرمن مارشل فنڈ’ کی ایک سینئر فیلو ہیں۔ انھوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے روس پرکسی حد تک پابندیاں عائد رہی ہیں، جب کہ اسے مزید تعزیرات کا ڈر ہے، لیکن روس نے ان کے معاشی اثرات سے بچنے کا بندوبست کر رکھا ہے۔

ایسے میں جب روس کے خلاف تعزیرات سے متعلق اقدام کی باتیں کی جا رہی ہیں، پیر کی صبح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اجلاس منعقد کیا جس میں امریکہ اور روس کے نمائندوں کے مابین اسخت لفاظ کا تبادلہ ہوا۔ یہ اجلاس امریکہ کی درخواست پر بلایا گیا تھا، جس کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے بقول یہ تھا کہ یوکرین کے معاملے پرروس کے دھمکیوں پر مبنی رویے کا مناسب جواب دیا جانا چاہیے۔

سلامتی کونسل میں بیان دیتے ہوئے، روسی سفیر سیزلی نبنزیا نے الزام لگایا کہ امریکہ یوکرین کے بارے میں روس کے ارادوں سے متعلق ”ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے”، جس میں، بقول ان کے، کوئی صداقت نہیں ہے۔ اسی بیان میں انھوں نے کہا کہ روس کے ارادوں پر انتباہ جاری کرکے دراصل امریکہ” اشتعال انگیزی” سے کام لے رہا ہے۔

ادھر اختتام ہفتہ یوکرین کے صدر ولادویمیر زیلنسکی نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ یوکرین کے اندر خوف کی فضا کو ہوا نہ دی جائے۔ انھوں نےکہا کہ یوکرین میں داخلی عدم استحکام کی صورت حال پیدا کیے جانے کے سنگین خدشات موجود ہیں۔

سلامتی کونسل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں امریکی صدرجوبائیڈن نے کہا ہے کہ اگر مکالمے کے ذریعے روس سلامتی سے متعلق ہماری تشویش دور کرنے میں پرخلوص ہے، تو امریکہ اور اس کے اتحادی اس کے ساتھ بات چیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ برعکس اس کے، اگر روس سفارت کاری کی راہ چھوڑ کر یوکرین پر حملہ کرتا ہے، تو پھر روس ہی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، جسے فوری اور سنگین نوعیت کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

دریں اثنا، منگل کے روز امریکہ اور روس کے اعلیٰ ترین سفارت کاروں نے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے، جس سے ایک ہی روز قبل عالمی ادارے میں تعینات دونوں ملکوں کے مستقل نمائندوں نے سلامتی کونسل میں ایک دوسرے کا سامنا کیا، اجلاس کے دوران روس نے اس الزام کو مسترد کیا کہ وہ ہمسایہ ملک یوکرین پر حملے کا منصوبہ تیار کر چکا ہے۔

ادھر کیف میں سفارتی کوششیں جاری ہیں، جہاں برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن یوکرین کے صدر ولادومیر زیلنسکی سے بات چیت کررہے ہیں۔



Source link

کیٹاگری میں : USA