امریکی شہریوں کا بحفاظت انخلا یقینی بنانے کے لئے طالبان سے بات چیت جاری ہے: لائیڈ آسٹن



امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس افغانستان میں اتنے وسائل موجود نہیں کہ کابل انٹرنیشل ائیرپورٹ کی حفاظت کے موجودہ مشن کو توسیع دی جائے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شہریوں کو نکال کر ائیر پورٹ پہنچانے کی کوشش نہیں کی جا سکتی، جو کابل کے کسی دوسرے مقام پر پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ سوال کہ افغانستان چھوڑنے کے خواہشمند افراد کو اکتیس اگست کی صدر بائیڈن کی دی ہوئی ڈیڈ لائن تک ائیر پورٹ کی حدود کے باہر جاکر نکالنے کی کوششیں کی جا سکتی ہیں، ان میڈیا رپورٹس کے بعد پیدا ہوا کہ طالبان نے ائیر پورٹ جانے والی چوکیوں پر چند اہم عہدیداروں کو روک لیا ہے، جو ائیر پورٹ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔

لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ کابل میں اس وقت ہمارے پاس یہ صلاحیت موجود نہیں کہ ہم اپنے آپریشنز کو توسیع دے سکیں۔ اور اگر ایسا کریں تو ان کو کابل میں کہاں تک لے جایا جا سکتا ہے؟

آسٹن، ایک ریٹائرڈ فور سٹار آرمی جنرل ہیں، جنہوں نے افغانستان میں امریکی فوج کی قیادت کی ہے۔ وہ پینٹاگان میں طالبان کے کابل پر اتوار کو ہونے والے قبضے کے بعد پہلی نیوز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ ان کی توجہ اس وقت کابل ائیر پورٹ پر مرکوز ہے، جسے کئی قسم کے ایسے خطرات کا سامنا ہے، جن پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسا نہیں ہونے دے سکتے کہ کابل ائیر پورٹ کی ائیر فیلڈ کا دفاع نہ کریں، یا ہمارے پاس محفوظ ائیر فیلڈ موجود نہ ہوں، جہاں سینکڑوں، ہزاروں سویلین ائیر فیلڈ پر بیٹھے ہوں۔

اس نیوز کانفرنس میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل مارک ملی بھی موجود تھے۔ لائیڈ آسٹن کا کہنا تھا کہ کابل ائیرپورٹ سے امریکی شہریوں اور متاثرہ افغان باشندوں کا بحفاظت انخلا یقینی بنانے کے لئے طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

آسٹن نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اب بھی کئی خدشات موجود ہیں۔ تاہم، انھوں نے کہا کہ طالبان ان افراد کو کابل ایئرپورٹ آنے کی اجازت دے رہے ہیں جن کے پاس امریکی پاسپورٹ یا دیگر نوعیت کے قانونی کاغذات ہیں۔

جنرل مارک ملی نے کہا کہ اس بات کی کسی کو توقع نہیں تھی کہ افغان فوج کی موجودگی میں 11 دن کے اندر افغان حکومت کو اس طرح مات ہو سکتی ہے۔ بقول ان کے، اس ناکامی کا تعلق ‘عزم اور قیادت’ کے معاملے سے ہے۔ انھوں نے اس کی مزید تفصیل بیان نہیں کی۔

انھوں نے کہا کہ 20 سال تک نیٹو ممالک کے اتحادیوں نے ہمارا بھرپور ساتھ دیا، جن میں افغان مترجم بھی شامل ہیں، جنھیں اب مدد فراہم کی جارہی ہے، اس فرض کی انجام دہی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply