امریکی کانگریس نے جنسی ہراسانی کے خلاف بل منظور کر لیا



امریکی کانگریس نے جمعرات کو ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی کا سامنا کرنے والے افراد عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس قانون کو مبصرین دنیا بھر میں شروع ہونے والی ‘می ٹو’ تحریک کی ایک بڑی فتح قرار دے رہے ہیں۔

اس بل کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس پر جلد ہی صدر بائیڈن دستخط کر دیں گے۔

بل کی منظوری کے بعد ملازمین کے کانٹریکٹ سے وہ شق ختم کر دی جائے گی جو کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی یا تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کو عدالت سے رُجوع کے بجائے ثالث کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی پابند کرتی ہے۔

اس قسم کی پابندیوں کی وجہ سے اکثر ایسے معاملات میں مالکان فائدے میں رہتے ہیں اور ایسے الزامات منظر عام پر نہیں آتے۔

یہ قانون ماضی کے کیسز پر بھی لاگو ہو گا جس کی وجہ سے ایسے افراد جو ملازمتوں کے معاہدوں کی وجہ سے اب تک پابند تھے، وہ بھی عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔

اس بل کی منظوری کے لیے کوششیں کرنے والی سینیٹر کیرسٹن جلی برینڈ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ امریکہ کی تاریخ میں کام کرنے کی جگہوں کے لیے اہم ترین اصلاحات ہیں۔

ان کے مطابق اب جنسی ہراسانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے افراد جب سامنے آئیں گے تو انہیں ان کے مالکان پر ہرجانہ کرنے سے کوئی یہ کہہ کر روک نہیں سکتا کہ ان کے ملازمت کے معاہدے میں جبری طور پر ثالثی کی شق موجود ہے۔

ڈیموکریٹک سینیٹر کیرسٹن جلی برینڈ نے ری پبلکن سینیٹر لنزی گراہم کے ساتھ مل کر 2017 میں پہلی بار یہ بل متعارف کروایا تھا۔

اس قانون کے لیے امریکی ایوانِ نمائندگان میں دونوں پارٹیوں کی جانب سے حمایت حاصل تھی۔ یہ بل امریکی سینیٹ میں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا جب کہ ایوان زیریں میں یہ بل 97 کے مقابلے میں 335 ووٹ سے منظور کیا گیا۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کی سابق اینکر گریچن کارلسن نے اس بل کے حق میں ایوانِ نمائندگان میں گواہی دی تھی۔

انہوں نے پانچ برس پہلے نیٹ ورک کے سی ای او راجر ایلز پر، جو وفات پا چکے ہیں، ان چاہی پیش قدمی اور انکار پر ان کے کرئیر کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔ نیٹ ورک کے بعض ملازمین کے معاہدوں میں ثالثی کی پابندی کی شق موجود تھی۔

سینیٹ میں بل کے منظور ہونے کے بعد پریس کانفرنس میں گریچن کارلسن بھی کیرسٹن جلی برینڈ کے ساتھ موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ان کے الزامات لگانے کے پانچ برس بعد قانون میں تبدیلی ہو سکے گی اور یہ کہ دونوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیاں اس کی حمایت میں کھڑی ہوں گی۔

گریچن نے کہا کہ “سڑکوں پر مارچ کرنے سے ہم متاثر ہو سکتے ہیں ، اداریوں سے ہمارے ذہن کھل سکتے ہیں، ہیش ٹیگ ہمیں جوش دلا سکتے ہیں لیکن قانون سازی ہی وہ چیز ہے جس کا اثر باقی رہتا ہے۔”

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اندازہ ہے کہ تقریبا چھ کروڑ امریکی ملازمین کے معاہدوں میں ایسی شق موجود ہے جس کی وجہ سے وہ جنسی ہراسانی یا تشدد کی شکایات نجی طور پر ثالث کے سامنے نمٹانے پر مجبور ہیں اور عدالت نہیں جا سکتے۔

‘اے پی’ کے مطابق ‘می ٹو’ کی تحریک کے بعد یہ روایت تنقید کی زد میں آئی جس کی وجہ سے ملازمین کسی جیوری کے بغیر اپنی شکایت نمٹانے اور اپیل کے حق کے بغیر فیصلہ سننے پر مجبور تھے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA