امریکی کسان آزادی کے لیے’ریڑھ  کی ہڈی’ کا کام دیتےہیں، بائیڈن



صدر جوبائیڈن نے بدھ کے روز امریکی کاشت کاروں کو ”آزادی کی ریڑھ کی ہڈی” قرار دیتے ہوئے ان کی بہتری کے لیے اربوں ڈالرفراہم کرنے کا وعدہ کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی یوکرین پر جارحیت کے نتیجے میں درپیش گندم کی پیداوار میں کمی کا شکار ہونے والی دنیا کو سہارا دینے کے لیے آگے بڑھیں۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کی صبح ریاست الی نوائے کے شہر، کانکاکی کے ایک خاندانی فارم پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ” آپ واقعی ہمارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یہ مبالغہ آرائی نہیں ہے”۔

وہ گندم کی لہلہاتی گندم فصل کا معائنہ کر نے کے بعد ایک ٹریکٹر کے سامنے کھڑے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ،”آپ دنیا کو بھی خوراک فراہم کرتے ہیں۔ اور پوٹن کی یوکرین میں لڑائی کے نتیجے میں ایسا لگتا ہے کہ بیشک آپ آزادی کی ریڑی کی ہڈی کے کام سے وابستہ ہیں”۔

روس کے یوکرین پر حملے کو گیارہواں ہفتہ ہوچلا ہے، جس کے نتیجے میں گندم، مکئی، جو اور روغنی بیجوں کی عالمی رسد کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں، جب کہ لڑائی کی وجہ سے کھاد کی رسد میں بھی خلل پڑا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر غذا کی قیمتوں میں تقریباً 13 فی صد اضافہ ہو چکا ہے۔

بائیڈن امریکی کاشت کاروں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی اقدام کاا علان کر چکے ہیں۔ ان میں ضروری اعانت کی فراہمی بھی شامل ہے تاکہ کاشت کار ایک سال میں دو قسم کی فصلیں بوئیں۔ انھیں ٹیکنالوجی تک رسائی میسر ہو جس سے وہ کھاد کا کم استعمال کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں کھاد کی پیداوار کو دوگنا کرنے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کی رقوم مختص کردی گئی ہیں۔

بائیڈن نے کسان برادری کو بتایا کہ بحرانی صورت حال پوٹن کی جارحیت کے باعث پیدا ہوئی ہے، جس کی وجہ سے’ بحیرہ اسود’ کی بندرگاہوں سے یوکرینی برآمدات رک گئی ہیں۔

بائیڈن کے الفاظ میں ”لیکن ہم اس کا توڑ تلاش کررہے ہیں اور ہمارے کاشت کار اس کا مداوا کرنے میں معاون بنیں گے، دونوں محاذوں پر، غذائی اجناس کے نرخ کم رکھ کر ، پیداوار بڑھا کر اوردنیا کے ضرورت مندوں کو غذا فراہم کرکے”۔

اس ہفتے، یورپی سرمایہ کاری بینک (ای آئی بی) کے سربراہ ، وارنر ہوئرنےدرپیش خطرات سے متعلق چوکس کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین میں گندم کے ذخیرے موجود ہیں جنھیں برآمد نہیں کیا جاسکتا۔

یورپی سرمایہ کاری بینک کے صدر نے کہا کہ ”یوکرین یورپ کے لیے گندم پیدا کرتا ہے اور اب بھی یوکرین کے پاس ساڑھے آٹھ ارب یورومالیت کی گندم کا ذخیرہ موجود ہےجسے گزشتہ سال گندم کی کٹائی کے وقت گداموں میں بھر دیا گیا تھا۔ لیکن اب وہ اسے برآمد نہیں کرسکتے چونکہ انھیں سمندر تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ”یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے جسے حل کیے جانے کی ضرورت ہے، چونکہ یہ بہت ہی محنتی لوگ ہیں۔ اب بھی وہ بوائی کے کام میں سر تن کی بازی لگا کر حصہ لے رہے ہیں اور انھیں اچھی پیداوار کی توقع ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ پیداوار گزشتہ سال کی نسبت 70 فی صد زیادہ ہو، جس کی کٹائی چند ماہ بعد ہونے والی ہے۔ لیکن پھر اس پیداوار کا کیا ہوگا؟ یہ کلیدی معاملات ہیں جن کے فوری حل کی ضرورت ہے۔

(خبر میں موجود مواد ایسو سی ایٹڈ پریس سے لیا گیا ہے)



Source link

کیٹاگری میں : USA