بائیڈن، بینٹ ملاقات میں فلسطین اور ایران کے معاملے پر بات چیت

افغانستان کے بحران کے باعث ایک دن کی تاخیر کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کے روز دورے پر آئے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ سے ملاقات کی جس کے دوران دونوں سربراہان نے جن امور پر بات چیت کی ان میں فلسطینیوں کی حالت زار اور ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تشکیل دینے کے عزائم شامل ہیں۔

یہ بات یقینی بنانے کے لیے کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہ کر سکے، بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ ”ہم سفارت کاری کو پہلی ترجیح دے رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ ہمیں کہاں لے جاتی ہے۔ لیکن، اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے، تو پھر ہم دیگر آپشنز پر غور کریں گے”۔

صدر نے ان دیگر آپشنز کی کوئی تفصیل نہیں بتائی اور اوول آفس میں بینٹ کے بیان کے بعد سوالوں کے جواب دینے سے احتراز کیا۔

اسرائیلی راہنما نے کہا کہ ”مجھے ایران سے متعلق آپ کی صاف گوئی سن کر خوشی ہوئی کہ ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا۔ آپ نے کہا کہ اس کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے گا، اگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو”۔

ایران کی جوہرہ تنصیب نطنز میں موجود یورینیم افزودہ کرنے کے ؒآلات، فاٹل فوٹو

ایران کی جوہرہ تنصیب نطنز میں موجود یورینیم افزودہ کرنے کے ؒآلات، فاٹل فوٹو

بقول ان کے، ”پہلا ہدف یہ ہے کہ ایران کو علاقائی جارحیت سے روکا جائے ” اور ، ”دوسرے یہ کہ یہ بات یقینی بنائی جائے کہ ایران مستقل بنیاد پر جوہری ہتھیار نہ بنا سکے”۔

سال 2015ء کے بین الاقوامی سمجھوتے میں شامل ہونے کے معاملے پر امریکہ اور ایران نے بالواسطہ بات چیت کے متعدد دور کیے ہیں، اس سمجھوتے کا مقصد ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بدلے اس پر عائد تعزیرات میں نرمی برتنا تھا۔ یہ سمجھوتا ایسے میں کیا گیا تھا جب یہ تشویش لاحق تھی کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی کوششیں کر رہا ہے، جسے ایران مسترد کرتا ہے۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ اس کے بعد ایران نے اپنے وعدوں سے ہٹ کر کئی اقدامات کیے جن میں افزودہ یورینئیم کے ذخائر میں اضافہ کرنا اور بھاری پانی کی سطح بڑھانا شامل ہے۔

دونوں سربراہان نے اپنی پہلی بالمشافہ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعلقات جاری رکھنے کے عہد کا اعادہ بھی کیا۔

بائیڈن نے کہا کہ ”امریکہ ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ہمارے دونوں ملکوں کے مابین یہ ایک غیرمتزلزل تعلق ہے”۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے، جنھوں نے جون میں اپنا عہدہ سنبھالا، کہا کہ ”آپ ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑے رہے ہیں، خاص طور پر مشکل وقتوں کے دوران، جیسا کہ چند ماہ قبل آیا تھا جب اسرائیلی قصبوں اور شہروں پر ہزاروں راکیٹ برسائے جا رہے تھے”۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply