بائیڈن کا روس پر مزید پابندیوں کا اعلان



صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو روس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان یہ کہتے ہوئے کیا کہ “صدرولادیمیر پوٹن نے جنگ کے راستے کا انتخاب کیا ہے اور ان کے ملک کو پوٹن کے فیصلے کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے ۔ ”یہ پابندیاں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے ردعمل میں عائد کی جا رہی ہیں”۔

امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں میں، صدر بائیڈن کے بقول، روس کے بینکوں، اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔

وائٹ ہاوس سے یوکرین روس تنازعے پر خطاب اور بعد ازاں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ مزید امریکی فوجوں کو جرمنی بھجوا رہا ہے، تاکہ وہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد نیٹو کی قوت میں اضافہ کر سکیں۔ یوکرین ابھی تک یورپی ممالک کے دفاع کے لیے بنائی گئی تنظیم نیٹو کا رکن نہیں ہے۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ روس نے یوکرین کےعوام کے خلاف سفاکانہ حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ان حملوں کا کوئی جواز اور کوئی ضرورت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوچا سمجھا حملہ ہے جس کی ولادیمیر پوٹن ایک عرصے سے منصوبہ بندی کر رہے تھے اور ہم بہت پہلے سے یہ بات کہہ رہے تھے کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے والا ہے۔ روس نے ایک لاکھ 75 ہزار فوجی اور بھاری فوجی سازوسامان یوکرین کی سرحد کے نزدیک بھجوا رکھا تھا۔ اس نے خون کی سپلائی کا بھی بندوبست کر رکھا تھا اور کچھ عارضی ہسپتال بھی قائم کیے تھے جس سے اس کے ارادوں کا صاف پتا چلتا تھا۔

بائیڈن نے کہا کہ صدر پوٹن نے مسئلے کو سفارتی طور پر حل کرنے کے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔

امریکہ کے صدر نے کہا کہ ہم کئی ہفتوں سے متبنہہ کر رہے تھے کہ حملہ ہونے والا ہے اور اب ہم بتا رہے ہیں کہ یہ تنازع وسعت اختیار کر سکتا ہے۔

صدر بائیڈن نے بتایا کہ نئی پابندیاں روس کی معیشت کو بری طرح متاثر کریں گی۔ یہ پابندیاں، ان کے بقول، صرف امریکہ کی طرف سے ہی عائد نہیں کی جا ر ہی ہیں بلکہ یورپی یونین میں شامل 27 ممالک، فرانس، جرمنی، اٹلی ، برطانیہ، کینیڈا، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور دیگر اتحادی ممالک بھی ہمارے ہماری طرح کے اقدامات کر رہے ہیں جن سے پابندیوں کے اثرات مزید بڑھ جائیں گے۔

بائیڈن نے بتایا کہ انہوں نے دنیا کی سات بڑی معیشتوں جنہیں جی سیون بھی کہا جاتا ہے، کے راہنماوں سے بات کی ہے اور ہم سب کا اتفاق ہے کہ ہم روس کی طرف سے ڈالر، یورو ، ین اور پاونڈ میں کاروبار کی اہلیت کو محدود کریں گے اور ہم روس کو رقوم دینے اور اس کی معاشی بہتری کی اہلیت بھی کم کریں گے ۔

صدر بائیڈن نے بتایا کہ ہم نے روس کے بینکوں کو امریکہ کے مالیات نظام سے منقطع کر دیا ہے اور پابندیوں کے اثرات پہلے ہی سے آنا شروع ہو گئے ہیں جب روس کی طرف سے قرضے لینے پر سود کی شرح میں 15فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ روس کا جو بینک ملک کے اندر بینکاری میں ایک تہائی اثاثے رکھتا ہے، اس کو بھی امریکہ کے فنانشل سسٹم سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم روس کے سرکاری ملکیت والے انٹرپرائز کو بھی ہدف بنائیں گے جس کے اثاثے ایک اعشاریہ چار ٹرلین ڈالر سے زیادہ ہیں۔

امریکہ کے صدر نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی روس کے ہائی ٹیک شعبے کو بھی ہدف بنا رہے ہیں۔

صدر نے اس موقع پر بتایا کہ وہ مزید فوجیں مشرقی یورپ بھجوا رہے ہیں جو نیٹو کو مضبوط بنائیں گی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کی فوج یوکرین کے اندر تصادم کا حصہ نہیں بنے کی۔

امریکہ کی طرف سے نئی پابندیوں کے اعلان سے قبل برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے بھی پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران روس پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا جو روس کے مالیاتی اداروں اور مالدار افراد کو نشانہ بناتی ہیں۔



Source link

کیٹاگری میں : USA