بائیڈن کے خطاب پر ڈیموکریٹک اور ری پبلکن قانون سازوں نے کیا کہا؟



امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے پہلے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب پر بر سراقتدار ڈیموکریٹک پارٹی اور حزبِ اختلاف ری پبلکن پارٹی کے رہنماؤں نے اپنی اپنی جماعت کی پالیسیوں کے مطابق ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

اگر چہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے قانون ساز روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت کرتے نظر آئے لیکن اس اہم مسئلے سے نمٹنے پر کی کوششوں پر بھی اختلاف رہا جب کہ امریکہ کے اندرونی مسائل کے حل پر دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے مکمل طور پر متضاد رائے کا اظہار کیا۔

ریاست پینسلوینیا سے ڈیموکریٹک سینیٹر باب کیسی نے صدر کے خطاب کو سراہتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے اور بنیادی ڈھانچے کے بل کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو، ملک بھر میں نقل و حمل کو بہتر بنانے، براڈ بینڈ اور پینے کے صاف پانی تک رسائی کو بڑھانے کے منصوبے کسی ایک نسل میں ایک بار کی جانے والی بڑی سرمایہ کاری ہے۔

باب کیسی نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری ملک بھر کے چھوٹے شہروں ،دیہی اور شہری علاقوں میں یکساں اقتصادی ترقی کو فروغ دے گی۔

امریکی سینیٹ میں اپوزیشن رہنما ری پبلکن سینیٹر مچ میکونل نے کہا کہ بائیڈن نے اس بات کو نظر انداز کیا کہ ان کا ایجنڈا امریکی خاندانوں کے لیے مکمل طور پر فلاپ ہو گیا ہے۔

ان کے بقول، “صدر نے اپنی پوری کوشش کی کہ وہ اپنے آپ کو اٹھانے اور امید فراہم کرنے کی کوشش کریں لیکن یہ ایسا نہیں ہے جو ابھی امریکی عوام محسوس کر رہے ہیں۔”

ڈیموکریٹک پارٹی میں پروگریسو یعنی ترقی پسند خیالات کی علمبردار ایوان نمائندگان کی رکن رشیدہ طلیب نے اپنے ہم خیال لوگوں کے خیالات کے اظہار کے لیے پروٹوکول سے ہٹ کر ایک غیر معولی اقدام اٹھایا اور صدر کی تقریر کے بعد ایک تقریر میں تبصرہ کیا۔

ورکنگ فیمیلیز پارٹی کی طرف سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر کا بلڈ بیک بیٹر یعنی پہلے سے بہتر انفراسٹرکچر بنانے کا منصوبہ تعطل کا شکار ہے اور اس سلسلے میں ہم پھر سے اپنا کام کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے اپنی تقریر میں مستقبل کے لیے ترقی پسند سیاسی منصوبوں کا ذکر کیا جن میں ادویات کی لاگت میں کمی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا اور اسقاطِ حمل تک رسائی شامل ہیں۔

رشیدہ طلیب نے کووڈ 19سے بچاؤ کی ویکسین لگانے ، ہنگامی ریلیف پہنچانے اور ملک کو معاشی چلنجز سے نمٹنے کی صدر بائیڈن کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر بائیڈن کے اقدامات کے بغیر امریکی معیشت بہت زیادہ گر سکتی تھی۔

امریکی ایوان نمائندگان کے ری پبلکن رکن فریڈ کیلر نےصدر کے خطاب پر تنقید کرتے ہوئے اسے ”منافقت کا عکاس” کہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر امریکی قوم کو متحد کرنے کے اپنے وعدے سے ہٹ گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ “حقیقت یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ اور واشنگٹن ڈیموکریٹس کی کمزور قیادت نے امریکہ کو آخری مقام تک پہنچا دیا ہے۔”

کیلر کے بقول، “کرونا ویکسین کے مطلق العنان مینڈیٹ اور بڑے سرکاری اخراجات نے امریکی عوام کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA