بطور معاون سیکریٹری آف اسٹیٹ، بھارتی نژاد امریکی عذرا ضیا کی نامزدگی کی منظوری



امریکہ کی نئی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے جمہوریت اور انسانی حقوق عذرا ضیا نے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کو مرکزی حیثیت دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی خواہاں ہیں۔

عذرا ضیا، جن کے والدین بھارت سے بحیثیت تارکین وطن امریکہ آکر آباد ہوئے تھے، سفارتکاری کا طویل تجربہ رکھتی ہیں۔

صدر جو بائیڈن نے انہیں اس سال جنوری میں انڈر سیکریٹری برائے سویلین سیکیورٹی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے نامزد کیا تھا اور اس ہفتے سینیٹ نے ان کے نامزدگی کی منظوری دی ہے۔ وہ محمکہ خارجہ میں امریکہ کی ان اہم ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے کوششوں کی رہنمائی کریں گی۔

اس عہدے پر فائض ہونے پر امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے انھیں مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں بے حد مسرت ہے کہ عذرا ضیا محمکہ خارجہ میں امریکہ کی انسانی حقوق کے فروغ اور سویلین سیکیورٹی کو درپیش خطرات سے مقابلہ کرنے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کریں گی۔

عذرا ضیا نے وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وہ اس پوزیشن پر فریضہ ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

عذرا ضیا نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ان کی پالیسیوں سےاختلاف کرتے ہوئے 2018 میں وزارت خارجہ میں اپنی سفارتی پوزیشن سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ امریکی اشاعت پولیٹیکو میں تحریر کردہ ایک مضمون میں انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر نسلی اور جنسی تعصب کا الزام لگایا تھا۔

صدر بائیڈن کی جانب سے اپنی نامزدگی پر عذرا ضیا نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنے 25 سال سے زیادہ سفارت کاری کے تجربہ سے یہ نیتجہ اخذ کیا ہے کہ امریکہ کی عظیم ترین طاقت اس کے ایک مثالی ملک ہونے ، آبادی کے تنوع اور جمہوری تصورات میں مضمر ہے۔

عذرا ضیا شمالی کیرولائینا کے شہر میں پیدا ہوئیں اور ان کے والدین کا تعلق بھارت کے صوبہ بہارسے ہے۔ انہوں نے جارج ٹاون یونیورسٹی کے سکول آف فارن سروس سے اعلی تعلیم حاصل کی۔

اپنے سفارتی کیریئر میں عذرا ضیا نے محکمہ خارجہ کے بیورو برائے جمہوریت، انسانی حقوق اور محنت میں خدمات انجام دیں۔ اس سے قبل وہ پیرس میں امریکی سفارت خانے میں بھی تعینات رہی تھیں۔

سن 2018 میں محمکہ خارجہ سے رخصت ہونے کے بعد وہ ‘الائنس فار پیس بلڈنگ’ نامی ادارے کی سربراہ رہیں۔ اس ادارے میں کئی تنظیمیں شامل ہیں اور اس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں پر تشدد تنازعات کا خاتمہ ہے۔

امریکہ میں بسنے والی برادریوں کو مناسب نمائندگی دے کر صدر بائیڈن اپنی انتظامیہ کو متنوع بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply