تین پاکستانی امریکنز کی چشم دید یادیں



وہ ستمبر کی ایک عام سی صبح تھی۔ منگل کا روز۔ سورج اپنی آب و تاب سے چمک رہا تھا۔

ڈاؤن ٹاؤن مین ہیٹن کے علاقے میں واقعے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے اندر اور اطراف ہر روز کی طرح گہما گہمی تھی۔ لوگ سب وے اسٹیشنز سے نکل کر تیز قدموں کے ساتھ اپنے دفاتر کی طرف بڑھ رہے تھے۔ انہی میں اک مقامی بینک میں کام کرنے والے رضا زیدی بھی تھے، جن کا اپنا دفتر تو ٹریڈ سینٹر کے پیچھے واقع عمارت میں تھا مگر وہ روز اپنے ماتحتوں کو کام دینے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں واقع اپنے بینک کے دوسرے دفتر جایا کرتے تھے۔

رضا ابھی ٹریڈ سینٹر پہنچے ہی تھے کہ ایک زوردار آواز سنی۔ رضا بتاتے ہیں ”یہ ایسی آواز تھی جیسے زور سے کچھ پھٹا ہو”۔ اچانک شور شروع ہوا اور لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ رضا نے بھی سب کی دیکھا دیکھی دوڑنا شروع کر دیا۔ رضا بتاتے ہیں ”ہرطرف گرد و غبار تھا، فضا میں کاغذ اڑ رہے تھے دوڑتے ہوئے میں بھی چھوٹے کانچ کے ٹکڑوں اور گرد میں اٹ گیا”۔

اسی دوران ایک اور جہاز آیا اور دوسرے ٹاور سے ٹکرا گیا۔ ہر دیکھنے والی آنکھ ششدر تھی اور پھر ہر طرف شدید افراتفری پھیل گئی۔ ”میں وہاں سے اپنے والد کے دفتر کی طرف دوڑا، تاکہ ان کی خیریت دریافت کر سکوں”۔

وہ ایک عجیب دن تھا جس سے گزرنے والوں نے اس سے پہلے کبھی ایسا دن نہیں دیکھا تھا۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر دریائے ہڈسن کے پاس ہی واقع ہے۔ دریا کے دوسری طرف نیو جرسی میں امبر حیدر اس روز حسب معمول ایکسچینج پلیس، اپنے دفتر کی طرف سفرکر رہی تھیں کہ اچانک ان کی لائٹ ریل کے سائرنز بج اٹھے، ٹرین رک گئی اور سب مسافروں کو ٹرین سے اتار دیا گیا۔

امبر ٹرین سے اتریں تو دیکھا کہ ہڈسن کے اس پار ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ امبر اور وہاں موجود دوسرے لوگ سمجھے کہ شاید آگ لگی ہے۔ امبر یاد کرنے لگیں کہ ”ایک دن پہلے ہی تو میں یہاں اپنے ساتھیوں کے ساتھ لنچ کر رہی تھی اور ہم ٹریڈ سینٹر کے ٹاورز کی جوڑی دیکھ کر اس کی خوبصورتی کی تعریف کر رہے تھے۔” ابھی امبر اسی سوچ میں گم تھیں کی انہوں نے دیکھا کہ ایک جہاز آیا اور دوسرے ٹاور سے ٹکرا گیا۔ دریا کے اس پار بھی لوگوں کی چیخیں نکل گئیں۔

اس کے بعد اطراف کی تمام عمارتوں کے فائر الارمز بج اٹھے اور تمام عمارتیں خالی کرا لی گئیں۔ کچھ دیر بعد امبر کو کسی ریسٹورنٹ میں بیٹھنے کی جگہ ملی جہاں ان جیسے بہت سے دوسرے شہری حیران و پریشان ٹی وی پر خبریں دیکھتے رہے۔ اسی دوران انہوں نے دیکھا کہ دونوں عمارتیں گرنا شروع ہوگئیں۔ امبر یہ بتاتے ہوئے گلوگیر ہو گئیں۔ نیویارک میں ہی پلنے بڑھنے والی امبر خود کو نیویارکر کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہیں اور اس شہر کی اس اہم نشانی کو مٹتے دیکھنا ان کے لئے آسان نہ تھا۔

نیو یارک پولیس ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والے پاکستانی نژاد پولیس افسر فیصل خان کے لئےبھی وہ دن بہت مشکل تھا،بطور پولیس افسر ان کی تربیت اور زندگی کا مقصد یہی تھا کہ وہ دوسروں کی مدد کریں۔ جب ٹریڈ سینٹر پر دہشتگرد حملہ ہوا تو وہ فوری طور پر وہاں پہنچ کر امدادی کاموں میں حصہ لینا چاہتے تھے۔ لیکن جب وہ جانے لگے تو ان کے سپروائزر نے انہیں روک لیا۔ فیصل اور ان کے کچھ ساتھی ان دنوں نارکوٹکس ڈپارٹمنٹ کے لئے کام کرہے تھے اور ایک تفتیشی کیس پر وہ خفیہ طور پر کام کر رہے تھے۔ ان کے سپر وائزر کو خدشہ تھا کہ سانحہ کی جگہ بڑی تعداد میں میڈیا ہوگا اور پولیس فورس کے ساتھ کام کرتے دیکھ کر بطور پولیس افسر ان کی شناخت ظاہر ہو جائے گی۔

نیویارک فیصل کا اپنا شہر تھا اور یہ شہر جل رہا تھا، فیصل کے لئے یہ دن گزارنا بہت مشکل تھا۔ اگلے روز فیصل خود پر قابو نہ رکھ سکے اور امدادی کاموں میں حصہ لینے گراؤنڈ زیرو پہنچ گئے۔ وہاں اب بھی دھواں اٹھ رہا تھا اور فضا میں ایندھن جلنے کی بو آ رہی تھی، وہ اپنے طور امدادی کاموں میں جت گئے۔ بیس سال گزر چکے ہیں مگر فیصل کے لئے یہ سب دہرانا ایسا ہی جیسے یہ سب کل ہی ہوا ہو۔

اگلا مرحلہ اس علاقے کو جسے اب گراؤنڈ زیرو کے نام سے پکارا جا رہا تھا، اسے صاف کرنا تھا۔ فیصل کی ڈیوٹی سٹیٹن آئ لینڈ میں لگا دی گئی جہاں دونوں عمارتوں کا ملبہ لایا جارہا تھا۔ فیصل بہت سے دوسرے افسران کے ساتھ کئی روز تک یہاں باغبانی کے نوکیلے اوزاروں کے ساتھ اس ملبے میں انسانی اعضاء اور جاں بحق ہونے والوں کی ایسی اشیاء تلاش کرتے رہے جو ان کی شناخت میں مددگار ثابت ہوتیں۔

فیصل خان بتاتے ہیں لینڈ فل پر ماحول بڑا سوگوار ہوتا تھا، مسکرانا تو دور کی بات کارکن ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کرپاتے تھے، بس خاموشی سے کام کرتے تھے اور اشیاء اکٹھی کرنے میں مصروف رہتے تھے۔

دوسری طرف نیو جرسی میں ایکسچینج پلیس پر بھی ایسے ہی مناظر تھے۔ امبر وہ وقت یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ”دریا کے اس پار سےغسل دینے اور شناخت کے لئے یہاں لاشیں لائی جاتی تھیں”۔

بقول ان کے، ”یہاں شامیانے لگا دئیے گئے تھے اور پورا علاقہ عوام کے لئے بند کر دیا گیا تھا۔ دفاتر کی کھڑکیوں سے کسی کو باہر جھانکنے کی اجازت نہیں تھی اس لئے کوئی دیکھ نہیں پاتا تھا کہ یہاں کیا ہورہا ہے”۔

رضا نے اس سانحے میں تین چار دوست کھوئے۔ وہ کہتے ہیں ”یہ بہت افسوسناک ہے۔ میں اپنے دوستوں کے بارے میں کہہ سکتا ہوں وہ بہترین لوگ تھے۔ اچھے مسیحی۔ اچھے انسان تھے”۔

رضا آج بھی نائن الیون یادگار پر جاتے ہیں جہاں ہلاک ہونے والوں کے نام کندہ ہیں، وہ ہزاروں ناموں میں اپنے دوستوں کے نام تلاش کرتے ہیں۔ اس تمام عمل میں اداسی ان کا پچھا نہیں چھوڑتی۔

اسی میموریل پر فیصل بھی کئی بار اپنے خاندان کیساتھ جا چکے ہیں وہ بھی کچھ ایسی ہی کیفیت بتاتے ہیں کہ ”سینکڑوں لوگوں میں پتا نہیں لگتا کہ کون یہاں ایسا ہوگا جو اپنا پیارا اس سانحے میں کھو چکا ہوگا”۔

فیصل کہتے ہیں یہاں بہت سے سیاح بھی آتے ہیں مگر اس جگہ کا ماحول نیویارک شہر کے دوسرے حصوں کے ماحول سے بہت مختلف ہے۔ لوگ یہاں تصاویر بھی کھنچوا رہے ہوتے ہیں مگر یہاں کا ماحول سوگوار رہتا ہے۔ میموریل میں گرتے پانی کی گونج ماحول کو مزید پراسرار بنا دیتی ہے۔

امبر آج پھر ایکسچینج پلیس پر موجود ہیں، جہاں 20 سال پہلے ملازمت پر جاتے ہوتے وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دونوں عمارتوں کو روز دیکھا کرتی تھیں آج وہیں فریڈم ٹاور کی قد آور عمارت شان و شوکت سے کھڑی ہے۔

امبر کہتی ہیں ”یہ عمارت اچھی ہے۔ خوبصورت ہے مگر ٹریڈ سینٹر ٹاورز کہ تو الگ ہی بات تھی”۔ پھر ان کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے اور وہ کہتی ہیں، ”مگر یہ نیو یارک ہے اور نیو یارک میرا دل ہے”.



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply