جب نو سیاہ فام طلبہ کے اسکول میں داخلے کے لیے فوج طلب کرنا پڑی

یہ کہانی ہے ان نو سیاہ فام طلبہ کی جن کا ایک جرات مندانہ قدم، امریکہ کے تعلیمی نظام میں نسلی تفریق کے خاتمے کی جدو جہد کا سنگِ میل ثابت ہوا۔

بظاہر کسی اسکول یا کالج میں داخلہ لینا معمول کی ایک کارروائی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن 1950 کی دہائی کے امریکہ میں جب تعلیمی اداروں اور سماجی سطح پر نسلی تفریق قوانین اور ضابطوں کی شکل میں برقرار تھی، سیاہ فام طلبہ کہ فیصلے سے ہنگامہ برپا ہو گیا تھا.

یہ ہنگامہ ایک ایسے تنازعے کی شکل اختیار کر گیا تھا جس کی بنا پر امریکہ کے عسکری ادارے اور وفاقی و ریاستی حکومت مد مقابل آ گئی تھیں۔

محض چند طلبہ کا کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ تاریخ کا یادگار باب کیسے بنا؟ اسے سمجھنے کے لیے امریکہ میں نسلی بنیادوں پر انتظامی اور قانونی تفریق کی تاریخ کو سمجھنا ضروری ہے۔

’جداگانہ مگر برابر‘

سن 1950 کی دہائی میں جو کچھ ہوا اسے سمجھنے کے لیے تقریباً ساٹھ برس پیچھے جانا پڑے گا۔

لوئزیانا میں 1892 میں ہومر پلیسی نامی مسافر نے ٹرین میں سیاہ فاموں کے لیے مخصوص حصے میں سفر کرنے سے انکار دیا۔ اس کا یہ انکار ریاست لوئزیانا کے اس وقت کے قوانین کی خلاف ورزی تھی۔

چار سال بعد پلیسی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اس مقدمے کو امریکہ کی عدالتی تاریخ میں پلیسی بنام فرگوسن کے نام سے جانا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے 18 مئی 1896 کو اس مقدمے میں جو فیصلہ سنایا اس میں نسلی بنیادوں پر جداگانہ سلوک اور تفریق یعنی سیگریگیشن کے لیے ’جداگانہ لیکن برابر‘ کا ایک نظریہ پیش کیا گیا۔

اس فیصلے میں قرار دیا گیا کہ سیاہ فاموں کے لیے جداگانہ برتاؤ اور انتظام آئین کے خلاف نہیں ہے۔

حالاں کہ امریکہ میں غلامی کا خاتمہ آئین میں تیرہویں ترمیم کے منظوری کے بعد 1865 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد چودھویں ترمیم نے سیاہ فام امریکیوں کو شہریت کا حق دیا اور پندرہویں ترمیم انہیں ووٹ کا حق دینے کے لیے کی گئی۔

لیکن لائبریری آف کانگریس کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق 1873 سے 1883 تک امریکہ کی سپریم کورٹ نے کئی ایسے فیصلے دیے جن کی وجہ سے قانونی طور پر سفر، عوامی مقامات اور تعلیمی اداروں سے لے کر جیلوں تک نسلی تفریق قانونی طور پر برقرار رہی۔ 1896 کے اس فیصلے نے نسلی تفریق یا سیگریگیشن کو باقاعدہ جواز فراہم کردیا۔

لیکن پلیسی بنام فرگوسن مقدمے کے فیصلے میں جسٹس جان مارشل ہرلن نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا تھا کہ نسلی تفریق کا قانونی جواز سیاہ فام امریکیوں کو کم تر شہری بنا دے گا۔ ان کی یہی دلیل بعد میں شہری حقوق کے لیے ایک تاریخی فیصلے کی بنیاد بنی۔

آئین میں تفریق کی گنجائش نہیں

’جداگانہ مگر برابر‘ کا یہ تصور امریکہ میں 1954 تک برقرار رہا لیکن 1954 میں سپریم کورٹ نے اس پر نظر ثانی کی۔

سن 1954 میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے ’براؤن بنام بورڈ آف ایجوکیشن‘ مقدمے میں ایک تاریخی فیصلہ دیا۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے امریکہ کے تعلیمی اداروں میں نسلی بنیادوں پر تفریق یا سیگریگیشن کو غیر قانونی قرار دیا۔

لیکن اس عدالتی فیصلے سے بہ یک جنبشِ قلم تعلیمی اداروں میں یہ تفریق ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد جدوجہد کا ایک اور دور شروع ہوا جس میں آرکنسا کے ان نو سیاہ فام طلبہ نے پہلا قدم اٹھایا جو امریکہ میں شہری حقوق کی تاریخ کا ایک باب بن گیا۔

امریکہ کی سپریم کورٹ کی عمارت۔ فائل فوٹو

امریکہ کی سپریم کورٹ کی عمارت۔ فائل فوٹو

پہلا قدم

سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے باوجود خاص طور پر امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں اس پر عمل درآمد میں مزاحمت کی جارہی تھی۔

جنوبی ریاست آرکنسا کے دارالحکومت کے لٹل راک اسکول بورڈ نے 22 مئی 1954 کو اعلامیہ جاری کیا کہ وہ عدالت کی جانب سے طریقہ کار اور ٹائم فریم وضع ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد کا آغاز کریں گے۔

اسی دوران اسکول نے سیگریگیشن کے خاتمے کے لیے انتظامات کرنا شروع کردیے اور اس کے اسکول کی سپرنٹنڈنٹ ورجل بلوسم کو منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری دے دی۔ مئی 1955 میں اسکول نے نسلی بنیادوں پر جداگانہ اصول کے خاتمے یا ڈی سیگریگیشن ک منصوبے کی منظوری دے دی جسے ’بلوسم پلان‘ کا نام دیا گیا تھا۔

اس منصوبے کے تحت ابتدائی سطح پر اسکول میں سیام فام طلبہ کو داخلہ دینے کی تجویز دی گئی تھی۔ لیکن ابتدائی جماعتوں کے طلبہ کے والدین کی اکثریت تعلمی اداروں میں نسلی بنیادوں پر جداگانہ اصول کے خاتمے کی شدید مخالفت کی۔ اس لیے ابتدائی طور پر 1957 سے لٹل راک کے سینٹرل ہائی اسکول میں سیاہ فام طلبہ کی علامتی شمولیت کا فیصلہ کیا گیا۔

لٹل راک اسکول میں نسلی تفریق کے خاتمے کے اقدامات کا اعلان ہونے کے بعد نو سیاہ فام طلبہ نے یہاں داخلہ لے لیا۔ ان نو طلبہ میں کے نام گلوریا رے، ٹیرنس رابرٹ، میلبا پٹیلو، جیفرسن تھامس، کیرلوٹا والز، تھیلما مدرشیڈ، منیجین براؤن اور انرسٹ گرین تھے۔ ان طلبہ کو ’لٹل راک نائن‘ بھی کہا جاتا ہے۔

مئی 1955 میں امریکہ کی سپریم کورٹ نے براؤن ٹو فیصلہ دیا جس میں تعلیمی اداروں سے نسلی تفریق ختم کرنے کے سابقہ فیصلے پرعمل درآمد کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔

اس دوران لٹل راک میں ’بلوسم پلان‘ پر عمل درآمد روکنے کے لیے آرکنسا میں نسلی بنیادوں پر جداگانہ سلوک کے مخالفین، جنھیں سیگریگیشنسٹ بھی کہا جاتا ہے، کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کی جاتی رہی لیکن سپریم کورٹ کا فیصلہ برقرار رہا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے اصرار بڑھنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں تعلیمی اداروں میں نسلی تفریق کے خاتمے کی مخالفت میں اضافہ ہونے لگا۔

انسائیکلو پیڈیا آف آرکنسا کے مطابق 19 امریکی سینیٹرز اور 81 کانگریس نمائندگان نے ’ سدرن مینیفیسٹو‘ پر دستخط کیے جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کی گئی اور جنوبی ریاستوں پر اس کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے زور دیا گیا تھا۔ اس منشور پر دستخط کرنے والے آٹھ ارکان کا تعلق آرکنسا سے تھا۔

انسائیکلو پیڈیا کے مطابق جنوبی ریاستوں کے لیے یہ منشور جاری ہونے کے بعد تعلیمی اداروں میں نسلی بنیادوں پر علیحدگی کی حمایت کرنے والی سفید فام تنظیموں نے عوامی سطح پر اپنی مہم تیز کر دی۔

دوسری جانب 1957 میں وہ تاریخ تیزی سے قریب آرہی تھی جس پر لٹل راک ہائی اسکول میں سیگریگیشن کے خاتمے کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کے لیے سیاہ فام طلبہ داخل ہونے والے تھے۔

جوں جوں یہ دن نزدیک آ رہا تھا تفریق کے حامیوں اور اسکول ڈسٹرکٹ حکام نے آرکنسا کے گورن اورول فابس پر زور دینا شروع کر دیا کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد رکوائیں۔

گورنر کو لکھے گئے خطوط میں خبردار کیا گیا تھا کہ اسکول میں سیگریگیشن کے خاتمے کی صورت میں نقضِ امن کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ لٹل راک ہائی اسکول کی انتظامیہ نے بھی گورنر سے امن و امان یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی تھی۔

آرکنسا کے گورنر نے اس تشویش سے مرکزی حکومت کو آگاہ کیا اور مشکل صورت حال میں مدد کی اپیل کی۔

امریکہ کے محکمۂ انصاف میں شہری حقوق ڈویژن کے سربراہ آرتھر بی کلیڈ ویل نے 28 اگست 1957 کو آرکنسا کے گورنر اورول فابس سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ وفاقی حکومت امن و امان برقرار رکھنے کے سلسلے میں ان کی مدد نہیں کرسکتی۔

انسائیکلو پیڈیا آف آرکنسا کے مطابق گورنر فابس وفاقی حکومت کی جانب سے یہ جواب ملنے پر برہم ہوگئے اور انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت سیاہ فام طلبہ کو داخلہ دینے (انٹیگریشن) کا فیصلہ ریاست آرکنسا پرتھوپنا چاہتی ہے۔

اس دوران فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں سیگریگیشن کا خاتمہ مؤخر کرنے کے لیے ایک اور درخواست دائر کی گئی جسے جج رونلڈ ڈیویز نے مسترد کردیا۔

صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی

اس وقت تک صورت حال مزید پیچیدہ ہوگئی جب آرکنسا کے گورنر اورول فابس نے 2 ستمبر 1957 کو آرکنسا کے نیشنل گارڈز کو سینٹرل ہائی اسکول پر تعینات کردیا اور اس اقدام کا جواز یہ فراہم کیا کہ گارڈز کی تعیناتی امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔

تین ستمبر کو کلاسوں کا آغاز ہونا تھا اور اسکول حکام نے سیاہ فام طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے دن ہائی اسکول آنے سے گریز کریں۔ لیکن جج ڈیویز نے اگلے ہی دن سیاہ فام طلبہ کے اسکول میں داخلے کے فیصلے پر عمل درآمد کے احکامات جاری کر دیے۔

اب چار ستمبر 1957 کا دن آن پہنچا جب نو سیاہ فام طلبہ نے سینٹرل ہائی اسکول میں داخلے کی کوشش کی۔ ان میں سے زیادہ تر نے کیمپس میں ایک ہی جانب سے داخل ہونے کی کوشش کی لیکن نیشنل گارڈز نے انہیں واپس بھیج دیا۔

ان نو سیاہ فام طلبہ میں سے ایک پندرہ سالہ طالبہ الزبتھ ایکفورڈ کیمپس کی شمالی جانب پہنچی تھیں۔ انہیں بھی نیشنل گارڈ کے اہل کاروں نے اسکول میں داخل نہیں ہونے دیا تھا۔

ایکفورڈ نے اسکول کیمپس کے سامنے پارک اسٹریٹ کا رخ کیا جہاں سیگریگیشن کے خاتمے کی مخالفت کرنے والے سفید فام طلبہ نے انہیں گھیر لیا۔ مشتعل ہجوم نے ان پر آوازے کسیں اور ان کا تمسخر اڑایا۔

ایکفورڈ نے اپنی والدہ کے پاس جانے کے لیے اسکول کیمپس کے جنوب میں بس اسٹاپ کا رُخ کیا اور وہاں سے روانہ ہوگئیں۔ ایکفورڈ کے مشتعل ہجوم کے گھیراؤ کی تصاویر اگلی صبح اخبارات میں شائع ہوئیں۔

چار ستمبر کو پیش آنے والی صورتِ حال کے بعد لٹل راک اسکول بورڈ نے جج ڈیویز سے سیگریگیشن کے خاتمے کا فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست کی۔

لیکن انہوں نے نہ صرف فیصلہ برقرار رکھا بلکہ امریکہ کے اٹارنی جنرل ہربرٹ براؤن ویل کو ہدایت کی کہ وہ آرکنسا کے گورنر فابس اور آرکنسا نیشنل گارڈ کے دو افسران کے خلاف عدالتی احکامات پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے کے خلاف اپیل دائر کریں۔

صورتِ حال کو معمول پر لانے کے لیے مقامی کانگریس نمائندگان نے گورنر فابس اور اس وقت کے امریکہ کے صدر ڈیوائٹ آئزن ہاور کی ملاقات کرائی۔ یہ ملاقات 14 ستمبر کو ہوئی۔ لیکن صورت حال تبدیل نہیں ہوئی۔

جج ڈیویز نے 20 ستمبر کو گورنر فابس اور آرکنسا نیشنل گارڈ کمانڈرز کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد میں مداخلت سے باز رہنے کے احکامات دیے۔ فابس نے اس روز سینٹرل ہائی اسکول سے نیشنل گارڈ کو ہٹا دیا اور جارجیا میں جنوبی ریاستوں کے گورنروں کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوگئے۔

حالات قابو سے باہر ہو گئے

اس کے بعد 23 ستمبر 1957 کو لٹل راک میں صورتِ حال ایک بار پھر قابو سے باہر ہو گئی جب نو سیاہ فام طلبہ کو ہائی اسکول میں داخلے سے روکنے کے جمع ہونے والے ہجوم کی تعداد ایک ہزار افراد تک پہنچ گئی۔

اس بار یہ نو طالب علم ایک بغلی دروازے سے اسکول کے احاطے میں کام یاب ہوگئے تھے۔ اس دوران چار سیاہ فام طلبہ کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

لٹل راک سینٹرل ہائی اسکول کے باہر 24 ستمبر 1957 کو فوج تعینات ہے۔ فائل فوٹو

لٹل راک سینٹرل ہائی اسکول کے باہر 24 ستمبر 1957 کو فوج تعینات ہے۔ فائل فوٹو

دوپہر تک صورتِ حال بدستور کشیدہ رہی۔ اسکول کے حکام اور پولیس کو ہجوم کے اسکول پر حملہ آور ہونے کا خدشہ تھا۔ اس لیے انہوں نے سیاہ فام طلبہ کی حفاظت کے پیشِ نظر انہیں اسکول کی عمارت سے منتقل کردیا گیا۔

لٹل راک کے میئر وڈرو مین نے صورتِ حال کے پیشِ نظر مرکزی حکومت سے رابطہ کیا جس پر صدر آئزن ہاور نے 25 ستمبر کو ایک حکم نامہ جاری کیا۔

صدارتی حکم نامے کے بعد 25 ستمبر کو صبح نو بجے لٹل راک نائن 101 ایئربورن انفینٹری ڈویژن کے 20 گارڈز کی حصار میں اسکول میں داخل ہوئے۔ کشیدگی کی وجہ سے اسکول کی عمارت پر آرمی ہیلی کاپٹر پرواز کر رہے تھے اور اسکول کے احاطے پر 350 پیراٹروپر پہرا دے رہے تھے۔ جب کہ اسکول کی عمارت سفید فام طلبہ کا ہجوم سیاہ فام کے داخلے کی مخالفت میں نعرے لگا رہے تھے۔

انسائیکلو پیڈیا آف آرکنسا کے مطابق گورنر فابس نے صدارتی احکامات کی روشنی میں کیے گئے اقدامات کو آرکنسا کی عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کے مترادف قرار دیا۔ اس روز سینٹرل ہائی اسکول کے دو ہزار میں سے 750 طلبہ غیرحاضر تھے۔

یکم اکتوبر تک اسکول کی اور سیاہ فام طلبہ کی حفاظت کی ذمے داری نیشنل گارڈز کے اہل کاروں نے سنبھال لی۔ اسکول کی عمارت کے باہر تو حالات قابو میں آگئے لیکن ان نو طلبہ کو اسکول کے اندر مسلسل نفرت انگیزی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

سیاہ فام طلبہ کو اسکول کے اندر تشدد سے بچانے کے لیے ہر طالب علم کی حفاظت پر نیشنل گارڈز متعین کیے گئے تھے جو ایک کلاس سے دوسری کلاس جانے تک ان کے ساتھ رہتے تھے۔ ان گارڈز کو کلاس روم ، باتھ روم یا لاکر روم وغیر میں جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ یہ گارڈز پورے سال ان نو سیاہ فام طلبہ کی حفاظت پر مامور رہے تھے۔

اس کے باوجود ان طلبہ کو مسلسل نفرت انگیز سلوک کا سامنا رہا۔ ایک سال کے دورانیے میں 100 سفید فام طلبہ لٹل راک نائن کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر اسکول سے معطل کیے گئے اور چار طلبہ کا داخلہ منسوخ ہوا۔

نو سیاہ فام طلبہ میں سے مینیجین براؤن کو فروری 1958 میں ساتھی طلبہ کو اشتعال انگیزی پر ردعمل ظاہر کرنے کی پاداش میں اسکول سے نکال دیا گیا۔

گالم گلوچ، دھمکیوں اور بدسلوکی کے باوجود ان نو میں سے انرسٹ گرین 27 مئی 1958 کو سینٹرل ہائی اسکول سے گریجویشن مکمل کرنے والے پہلے سیاہ فام طالب علم بن گئے۔

نتیجہ کیا نکلا؟

ان نو سیاہ فام طلبہ نے لٹل راک ہائی اسکول میں کٹھن وقت گزار کر تاریخ تو رقم کر دی لیکن دوسری جانب بھی آسانی سے مزاحمت ختم نہیں ہوئی۔

انسائیکلو پیڈیا آف بریٹینکا کے مطابق گورنر فابس 1958 میں ایک بار پھر گورنر منتخب ہوئے۔ انہوں نے ڈی سیگریگیشن کرنے کے بجائے لٹل راک کے اسکول بند کردیے۔ جنوبی ریاست میں کئی اضلاع کے اسکولوں نے یہی طریقہ اختیار کیا۔ 1961 تک صرف تین جنوبی ریاستوں، الاباما، مسی سپی اور جنوبی کیرولائنا نے تعلیمی اداروں میں سیگریگیشن برقرار رکھی۔

ان میں سے ساؤتھ کیرولائنا میں اس تقسیم اور تفریق پر مبنی قوانین 1963 میں جا کر ختم ہوئے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا لاس اینجلس کے سول رائٹس پروجیکٹ کے مطابق 17 ریاستوں میں 1970 تک کسی نہ کسی طرح سیگریگیشن برقرار رہی۔

لائبریری آف کانگریس کے ایک مضمون کے مطابق براؤن بنام بورڈ اور ایسے دیگر عدالتی فیصلوں نے سیاہ فام افریقیوں کے لیے یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن اس کا حصول آسان نہیں تھا۔ آج بھی پالیسی سازوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ سفید فام اور اقلیتوں کے بچوں میں پائے جانے والے اس فرق کو کیسے دور کیا جائے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply