داعش رہنما کی ہلاکت گروہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو گی، امریکہ



اعلیٰ امریکی حکام اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ مہینوں کی تیاری کے بعد مشرق وسطیٰ کے ملک شام میں رات کے وقت پرخطر کاروائی کے نتیجے میں داعش کے راہنما کی ہلاکت اس دہشت گرد گروہ کے لیے ایک ایسا دیرپا دھچکا ثابت ہو گی جس سے یہ گروہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں پر حملہ کرنے میں ناکام رہے گا۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو علی الصبح شدت پسند داعش یا اسلامک اسٹیٹ نامی گروہ کے راہنما امیر محمد سعید عبدالرحمٰن المولٰیٰ کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے یہ اعلان امریکی اسپیشل فورسز کی جانب سے شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں دہشت گرد کے ٹھکانے پر کاروائی کے چند گھنٹوں کے بعد کیا۔

خیال رہے کہ المولیٰ “دنیا بھر میں داعش سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کو پھیلانے کے کام کی نگرانی کرتا تھا۔

صدر بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں کہا تھا کہ کمیونیٹیز کونشانہ بنانے اور بے گناہوں کو قتل کرنے کے بعد، (المولیٰ ) شمال مشرقی شام کی داعش کے جنگجووں سے بھری ایک جیل پر حالیہ وحشیانہ حملے کا ذمہ داربھی تھا۔

صدر نے کہا تھا کہ یہ آپریشن امریکہ کی رسائی اور دہشت گردی کے خطرات کو ختم کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ “چاہے کہیں بھی چھپنے کی کوشش کریں … ہم آپ کا تعاقب کریں گے اور آپ کو ڈھونڈ نکالیں گے۔”

المولیٰ، ابو ابراہیم الہاشمی القریشی اور حاجی عبداللہ سمیت کئی القابات سے جانے والا داعش کا راہنما سن 1976 میں عراق میں پیدا ہوا۔ ایک مذہبی اسکالر بننے کے بعد المولیٰ دہشت گرد گروپ میں ترقی کرتے ہوئے داعش کے سابق رہنما اور خود ساختہ خلیفہ ابوبکر البغدادی کا اعلیٰ معاون بن گیا۔

جب اکتوبر 2019 میں شمال مغربی شام میں بغدادی ایک امریکی حملے میں مارا گیا تو اس وقت المولیٰ اس کا جاننشین بن گیا۔

اس وقت تک المولیٰ یزیدی مذہبی اقلیت کے قتل عام اور دہشت گرد گروہ کی کچھ عالمی کارروائیوں کی نگرانی کر چکا تھا۔

راہنما کے طور پر المولیٰ داعش کے پہلے راہنما بغدادی سے بھی کہیں کم منظر عام پر آتا تھا۔ اس کےپس منظر رہنےکے باعث کچھ تجزیہ کار اس بات پر حیران تھے کہ شام اور عراق سے باہر داعش سے وابستہ اہم تنظیموں پر اس کا کتنا کنٹرول یا اثرو رسوخ تھا۔

تاہم، امریکی حکام نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ المولیٰ دہشت گرد گروپ کے نیٹ ورکس کی بنیاد رکھنے والے اہم کارکنان کی توسیع میں مؤثر ہونے کے طریقے تلاش کرتا رہا۔

یو ایس سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینتھ “فرینک” میک کینزی نے جمعرات کو ایک ورچوئل کانفرنس میں بتایا کہ جہاں تک بغدادی کا تعلق ہے تو وہ داعش میں ایک مشہور اور فلسفیانہ شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن المولیٰ ایک آپریشنل پلانر یعنی عملی طور پر منصوبہ بندی کرنے والا آپریشنز کا ڈائریکٹر تھا۔

خیال رہے کہ امریکی دفاعی حکام نے کہا ہے کہ جب امریکی فورسز نے المولیٰ کی شام میں پناہ گاہ پر رات کے وقت کاروائی کی تو اس نے اپنے آپ کو ایک دھماکے سے اڑا لیا۔

المولیٰ ادلب صوبے کے ایک قصبے ایتمی کے ایک رہائشی علاقے میں چھپ کر رہ رہا تھا۔



Source link

کیٹاگری میں : USA