روس کے مقابلے کے لیے فوج یوکرین نہیں بھیج رہے، صدر بائیڈن کا ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ خطاب



امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن روس کے مقابلے کے لیے اپنی افواج یوکرین نہیں بھیجے گا تاہم روسی پروازوں کے لیے امریکی فضائی حدود بند کی جا رہی ہے۔

امریکی کانگریس سے اپنے پہلے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب کے دوران صدر بائیڈن نے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کو خبر دار کیا کہ انہیں یوکرین پر حملے کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی روسی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کرکے روس کو مزید الگ تھلگ کر دیں گے۔

امریکی قانون سازوں اور دیگر اہم شخصیات کےعلاہ امریکہ میں یوکرین کی سفیر بھی اس خطاب کے دوران حاظرین میں موجود تھیں۔ کئی خواتین اراکین کانگریس نے یوکرین سے اظہار یکجہتی میں اس کے پرچم میں شامل نیلے اور پیلے یا سنہری رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔

روس کے خلاف یوکرین پر حملے کےبعد عائد کی گئی پابندیوں کے حوالے سے صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی روسی معیشت پر اضافی دباؤ ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روسی کرنسی روبل پہلے ہی اپنی قدر کا 30 فی صد کھو چکا ہےجب کہ روسی اسٹاک مارکیٹ اپنی قدر کا 40 فی صد کھو چکی ہے اور تجارت بدستور معطل ہے۔

بائیڈن نے کہا کہ روس کی معیشت تباہ ہو رہی ہے اور پوٹن اس کے ذمہ دار ہیں۔

یوکرین کے عوام کے لیے حمایت پر زور دیتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی مل کر یوکرین کے عوام کی آزادی کی لڑائی میں ان کی مدد کر رہے ہیں اور انہیں فوجی ،اقتصادی اور انسانی امداد فراہم کر رہے ہیں۔

ان کے بقول،””ہم یوکرین کوایک بلین ڈالر سے زیادہ کی براہِ راست امداد دے رہے ہیں۔ہم یوکرین کے لوگوں کی مدد جاری رکھیں گے کیوں کہ وہ اپنے ملک کا دفاع کر رہے ہیں اور ان کے مصائب کو کم کرنے میں مدد کریں گے۔”

صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ امریکی افواج یوکرین میں روسی افواج کے ساتھ لڑائی میں شامل نہیں ہیں اور نہ ہی اس میں شامل ہوں گی۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہماری افواج یوکرین میں لڑنے کے لیے یورپ نہیں جا رہی ہیں، بلکہ وہ اپنے نیٹو اتحادیوں کے دفاع کے لیے جا رہی ہیں۔

بائیڈن نے کہا کہ چھ دن قبل پوٹن نے آزاد دنیا کی بنیادوں کو یہ سوچ کر ہلانے کی کوشش کی کہ وہ اسے اپنے خطرناک طریقوں سے جھکا سکتے ہیں۔ تاہم پوٹن نے بہت ہی غلط اندازہ لگایا۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ پوٹن کو طاقت کی ایک ایسی قسم کاسامنا کرنا پڑا جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔جو یوکرینی عوام ہیں۔ان کے بقول یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے لے کر ہر یوکرینی شہری کی ہمت اور عزم نے دنیا کو متاثر کیا ہے۔

صدر بائیڈن کے ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ خطاب کے موقع پر ایوان میں یوکرین کی امریکہ میں سفیر بھی موجود تھیں۔ بائیڈن نے ان کی موجودگی کو سراہتے ہوئے کانگریس کے اراکین سے کہا کہ “آئیے اس چیمبر میں ہم میں سے ہر ایک یوکرین اور دنیا کے لیے ایک واضح پیغام بھیجے۔”

صدر بائیڈن نے کہا کہ “”اپنی پوری تاریخ میں ہم نے یہ سبق سیکھا ہے جب آمر اپنی جارحیت کی قیمت ادا نہیں کرتے تو وہ مزید افراتفری کا باعث بنتے ہیں۔”

یوکرین پر روسی حملے کے بعد کی گئی اپنی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے امریکہ کے یورپی اتحادیوں کو اس مسئلے پر یکجا کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے دنیا کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ پوٹن یوکرین کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور یہ کہ وہ اس حملے کا جھوٹا جواز پیش کریں گے۔

ان کے بقول “ہم نے پوٹن کے جھوٹ کا سچائی سے مقابلہ کیا۔”

صدر بائیڈن نے کہا کہ آزاد دنیا پوٹن کو اس حملے کا ذمہ دارٹھہرارہی ہے۔ ان ممالک میں یورپی یونین کے ستائیس ممبران، فرانس، جرمنی، اٹلی برطانیہ، کینیڈا کے ساتھ ساتھ جاپان، کوریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، اور بہت سے دوسرے، حتیٰ کہ سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پوٹن اب پہلے سے کہیں زیادہ دنیا سے الگ تھلگ ہیں۔ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر امریکہ ابھی طاقتور اقتصادی پابندیاں نافذ کر رہا ہے۔ “ہم روس کے سب سے بڑے بینکوں کو بین الاقوامی مالیاتی نظام سے کاٹ رہے ہیں۔””

انہوں نے کہا کہ ہم روس کی ٹیکنالوجی تک رسائی کو روک رہے ہیں جو اس کی اقتصادی طاقت کو ختم کر دے گی اور آنے والے سالوں تک اس کی فوج کو کمزور کر دے گی۔



Source link

کیٹاگری میں : USA