سپریم کورٹ کے لیے پہلی سیاہ فام خاتون جج کی نامزدگی امید کا پیغام



کلارک پرکنز ایک دہائی سے زائد عرصے سے وکیل بننا چاہتی تھیں۔ وہ قانون کے شعبے میں اپنی قسمت آزمائی سے قبل اپنے اس خواب کا اظہار اس وقت بھی کیا کرتی تھیں جب امریکہ کی ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ کے ایک اسکول میں معاشرتی علوم اور تاریخ کا مضمون پڑھاتی تھیں۔

وہ جس ہائی اسکول میں پڑھاتی تھیں وہاں سیاہ فام طلبہ کی اکثریت تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بطور سیاہ فام استاد اپنے طلبہ کو یہ بتایا کرتی تھیں کہ وکیل کس طرح لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے وہ ووکیل بننا چاہتی تھیں۔لیکن جب وہ یہ دیکھتی تھیں کہ امریکہ میں صرف چار اعشاریہ سات فی صد وکیل سیاہ فام ہیں اور ان میں سے دو فی صد سے بھی کم خواتین ہیں تو انہیں اپنا خواب پورا ہونا ممکن نہیں لگتا تھا۔

لیکن اب انہیں اپنا یہ خواب اس لیے شرمندۂ تعبیر ہونے کی آس بند ھ گئی ہے کیوں کہ امریکی سینیٹ میں امریکہ کی سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے والے جسٹس اسٹیفن برائیر کی جگہ سیاہ فام جج کیتانجی براؤن جیکسن کی نامزدگی کی توثیق کے لیے سماعت شروع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

‘وائس آف امریکہ’ کے لیے میٹ ہینز کی رپورٹ کے مطابق سماعت کا آغاز 21 مارچ 2022 سے ہو گا اور اگر جج کیتانجی براؤن جیکسن کے نام کی توثیق ہو جاتی ہے تو وہ امریکہ کے سپریم کورٹ میں خدمات انجام دینے والی پہلی سیاہ فام خاتون جج بن جائیں گے۔

کیتانجی براؤن جیکسن کے حامی ان کی نامزدگی کو حکومت میں مختلف نسلی گروہوں کی نمائندگی کے اعتبار سے اہم قرار دیتے ہیں جب کہ ناقدین اس فیصلے کو دیگر اہل امیدواروں کو موقع نہ دینے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔

البتہ قانون کی تعلیم حاصل کرنے والی کلارک پرکنز کے نزدیک سپریم کورٹ کے لیے ایک سیاہ فام خاتون کی نامزدگی ان کے اور قانون کے شعبے میں کامیابی کی آرزو رکھنے والے کئی طلبہ اور پیشہ ور افراد کے لیے امید افزا ہے۔

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے 2020 میں اپنی صدارتی مہم کے دوران عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار کسی سیاہ فام خاتون کو سپریم کورٹ کی جج کے لیے نامزد کریں گے۔

صدر جو بائیڈن کے سپریم کورٹ کے لیے سیاہ فام خاتون کو نامزد کرنے کا فیصلہ ان کے وعدے کی تکمیل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تاہم اس فیصلے پر تنقید بھی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

ریاست ٹیکساس کے ری پبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے اتوار کو ‘فاکس نیوز’ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ “یہ حکومت امتیازی سلوک کرنے جا رہی ہے، صدر نے کہا ہے کہ صرف سیاہ فام خواتین ہی اس سیٹ کے لیے اہل ہیں یعنی 94 فی صد امریکی نا اہل ہیں۔”

سیاہ فام خاتون جج کیتانجی براؤن جیکسن کے حامیوں کا خیال ہے کہ ان کی نامزدگی کے ناقدین صدیوں جاری رہنے والے امتیازی سلوک کو نظر انداز کررہے ہیں۔

ٹیکساس سدرن یونیورسٹی کی لاء لائبریرئن اور پروفیسر ننیٹ کولنز نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سپریم کورٹ کے لیے تاحال کسی سیاہ فام خاتون کا انتخاب نہ کرنا نسل پرستی اور جنسی تفریق ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب سے یہ ملک قائم ہوا ہے اس وقت سے سفید فاموں کو ان کی نسل کی وجہ سے اہلیت رکھنے والے سیاہ فام امیدواروں پر ترجیح دے کر نوکریاں دی گئیں، اب ان میں سے چند نشستوں پر نوکریاں حاصل کرنے کا ہمارا وقت ہے۔

قانون کے شعبے میں اپنا خواب پوری کرنے کی جستجو میں مصرف کلارک پرکنز کہتی ہیں کہ قانون کی تعلیم میں سبھی کو کوئی نہ کوئی مشکل درپیش ہوتی ہے۔ لیکن سیاہ فام اور عورت ہونے کی وجہ سے ان کا چیلنج دہر ا ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی تو ناممکن نظر آتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھے لاء کالج میں زیادہ تر ایسے لوگ نظر نہیں آتے جن میں مجھے اپنا آپ یا اپنی کہانی کا عکس نظر آتا ہو۔ جج جیکسن کی نامزدگی سے یہ مثال قائم ہوتی نظر آرہی ہے کہ مسلسل محنت سے کچھ بھی ممکن ہے۔ان کا تقرر ہو گیا تو سب کچھ بدل جائے گا اور ہمارے لیے ملک میں اس کی عملی مثال سامنے ہو گی۔



Source link

کیٹاگری میں : USA