صدر بائیڈن کی خاتون صحافی سے معذرت

صدر جو بائیڈن نے سوئٹزرلینڈ سے روانگی سے پہلے، جہاں انہوں نے روسی صدر ولادی میر پوٹن سے ملاقات کی، کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این) کی خاتون صحافی سے ان کے سوال پر ناگواری کے اظہار پر معذرت کر لی ہے۔

’’ میں اس سے پہلے سوال کرنے والی خاتون سے معافی چاہتا ہوں۔۔۔ مجھے اس قدر ’ذہین‘ نہیں بننا چاہیے تھا جیسا کہ میں نے پچھلے سوال کا جواب دیا‘‘۔

سی این این، واشنگٹن پوسٹ، یاہو نیوز اور دیگر خبر رساں اداروں نے صدر بائیڈن کی طرف سے معذرت پر تفصیل سے رپورٹنگ کی ہے۔ سی این این نے وہ ویڈیو کلپ بھی اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیا ہے جس میں صدر بائیڈن رپورٹروں سے بات کر کے جا رہے ہیں اور سی این این کی رپورٹر کے سوال پر ناگواری سے واپس پلٹ آتے ہیں اور رپورٹر کی طرف انگلی اٹھا کر بات کرتے ہیں۔

’’ایک اچھا رپورٹر ہونے کے لیے آپ کو زندگی میں منفی سوچ رکھنا ضروری ہے۔۔۔ آپ ملک کے ذہیں ترین لوگ ہیں لیکن میرا آپ کے ساتھ بحث کا کوئی جواز نہیں ہے‘‘۔ یہ تھے صدر بائیڈن کے الفاظ۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں جلدی میں ایسا کہہ جانے پر معافی مانگتا ہوں۔

صدر بائیڈن کی جینیوا میں صحافیوں سے گفتگو (اے پی)

صدر بائیڈن کی جینیوا میں صحافیوں سے گفتگو (اے پی)

صدر بائیڈن جب روسی صدر ولادی میر پوٹن سے ملاقات کے بعد پریس کے ساتھ گفتگو کر واپس جا رہے تھے، سی این این کی وائٹ ہاوس کے لیے چیف نمائندہ کیٹلن کالنز نے بآواز بلند سوال پوچھا کہ آپ اس قدر پر اعتماد کیوں ہیں کہ پوٹن اس سربراہ اجلاس کے بعد اپنا رویہ تبدیل کر لیں گے؟

جو بائیڈن یہ سن کر واپس مڑے اور بولے، ’’میں تو اس بارے میں پراعتماد نہیں ہوں کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کریں گے، یہ کیا بات ہوئی؟‘‘

انہوں نے کالنز کی طرف انگلی پوائنٹ کرتے ہوئے جواباً سوال کیا

’’ میں نے کب کہا تھا کہ میں پراعتماد ہوں؟‘‘

صدر نے پھر وضاحت کی،

’’میں نے یہ کہا تھا کہ اس سے ان کی طرف پوری دنیا کا رویہ تبدیل ہو گا اور دنیا میں ان کی پوزیشن کمزور ہو گی۔ میں کسی چیز کے بارے میں پراعتماد نہیں ہوں، میں صرف حقائق بیان کر رہا ہوں‘‘۔

کالنز صدر کے جواب کے بعد بھی اپنے سوال پر قائم رہیں۔ انہوں نے اپنے سوال میں کہا کہ آپ کے ساتھ ملاقات کے بعد روسی صدر نے سائبر حملوں میں کسی بھی کردار کی تردید کی ہے، نہ اپنے ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو زیادہ اہمیت دی، اور جیل میں قید اپوزیشن لیڈر الیگسی نیوالنی کا نام تک نہیں لیا؟ اس پس منظر میں رپورٹر نے پوچھا کہ یہ ملاقات کیونکر ایک تعمیری ملاقات کے زمرے میں آسکتی ہے؟

اس پر صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ ’’اگر آپ کو یہ بات سمجھ نہیں آتی ہے تو آپ نے اپنے لیے غلط شعبے کا انتخاب کیا ہے‘‘۔

سی این این کی رپورٹر کیٹلن کالنز نے صدر بائیڈن کی معذرت کا احترام کے ساتھ جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی ضرورت نہیں تھی۔

سی این این کے رپورٹرز کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھی ’فیک نیوز‘ یعنی جعلی یا من گھڑت خبریں دینے والا ادارہ کے الزامات کے ساتھ وائٹ ہاوس سے سخت جوابات کا سامنا رہا ہے تاہم سابق صدر کی جانب سے کبھی معذرت سامنے نہیں آئی ہے۔ سی این این نے صدر بائیڈن کے اس اظہار کی ستائش کی ہے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply