صدر بائیڈن کی ‘گن وائلنس’ پر کنٹرول کی ایک اور کوشش



صدر بائیڈن اور اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے پیر کے روز کئی اہم میونسپل اور قانون نافذ کرنے والے عہدے داروں کے ساتھ امریکہ کے ایک کلیدی مسئلے، اسلحے سے منسلک بڑھتے ہوئے جرائم پر تبادلہ خیال کیا۔

کئی اداروں کی رائے میں موجودہ سال 2021 گزشتہ دو عشروں کے دوران امریکہ کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز سال بن سکتا ہے۔

ایک گروپ ‘گن وائلنس آرکائیو’ کے مطابق اس سال اب تک پہلے ہی 10700 سے زیادہ افراد فائرنگ کے واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے کچھ واقعات حادثاتی طور رونما ہوئے جب کہ زیادہ تر کا تعلق قتل کرنے کی نیت، ڈکیتی اور ہجوم کو ہدف بنا کر گولیاں چلانے سے تھا۔ اس طرح کے واقعات خریداری کے مراکز اور دیگر پرہجوم جگہوں پر پیش آئے۔

صدر بائیڈن گن وائلنس کو امریکہ کی ایک وبا اور دنیا بھر میں باعث شرمندگی قرار دے چکے ہیں، لیکن وہ ابھی تک اس مسئلے کے حل میں بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

اس سال اپریل میں ریاست کولوراڈو کے ایک قصبے بلڈر میں ایک گراسری اسٹور میں اندھا دھند فائرنگ سے 10 افراد کی ہلاکت کے بعد صدر بائیڈن نے سینیٹ سے کہا تھا کہ وہ گن وائلنس سے متعلق ڈیموکریٹ اکثریت والے ایوان نمائندگان کی جانب سے بھجوائے گئے دو قانونی مسودوں کی منظوری دے دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک انتظامی حکم کے تحت اسلحے سے متعلق کچھ سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔

لیکن سیاسی طور پر تقسیم شدہ سینیٹ کو، جس میں دونوں جماعتوں کے پچاس پچاس ارکان ہیں، ابھی ان قانونی مسودوں کی منظوری دینی ہے اور ابھی تک یہ غیر واضح ہے کہ تمام پچاس ڈٰیموکریٹ ارکان اس بل کی حمایت کریں گے۔ بل کی منظوری کے لیے 50 ڈیموکریٹ ارکان کے ساتھ نائب صدر کاملا ہیرس کے فیصلہ کن ووٹ کی بھی ضرورت ہے۔

امریکہ میں قدامت پسند ری پبلیکن قانون دان اسلحے پر پابندی کے سخت قانون کے خلاف ہیں، جب کہ اعتدال پسند ڈیموکریٹ اسلحے کی فروخت پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

بائیڈن اور اٹارنی جنرل گارلینڈ نے واشنگٹن کی میئر موریئل بوئزر، سن ہوزے، کیلی فورنیا کے سام لیکارڈو اور نیویارک کے متوقع میئر ایرک ایڈمز اور ان چاروں شہروں کے پولیس کے سربراہوں کے ساتھ بات کی اور اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔

گن وائلنس سے متعلق براڈی کمپین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں روزانہ اوسطاً 316 لوگ گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں جن میں سے 116 موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جب کہ 210 کی جان بچا لی جاتی ہے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ ان ہلاکتوں میں 39 قتل کے واقعات ہوتے ہیں جب کہ 64 کا تعلق خودکشی سے ہوتا ہے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply