عالمی ادارے کا نسل پرستی اور تعصب کے مرتکب عہدے داروں کو جواہدہ ٹھہرانے کا مطالبہ

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے افریقی نژاد افراد کے خلاف نسل پرستی کی بنیاد پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مکمل خاتمے، اس میں ملوث افراد کو جواب دہ ٹھہرانے اور متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے ہائی کمشنر کی جانب سے جاری ہونے والی اس رپورٹ کی ہدایت گزشتہ سال جون 2020 میں جارج فلائیڈ کے قتل کے سلسلے میں انسانی حقوق کی کونسل نے کی تھی۔

اس رپورٹ میں جارج فلائیڈ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ سیاہ فام شخص منیاپلس میں ایک پولیس افسر کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ اس واقعہ نے نہ صرف امریکہ بلکہ دیگر ملکوں کو بھی متاثر کیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں چلنے والی تحریکوں ، مثلاً ‘ بلیک لائوز میٹر’ اور نسلی بنیادوں پر انصاف کے لیے ابھرنے والے مطالبات نے، اس مسئلے کو بہت سے ملکوں کے سیاسی ایجنڈے پر نمایاں کر دیا۔

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عہدے داروں کے ہاتھوں 190 سے زیادہ ہلاکتوں کی جانچ پرکھ کی، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق امریکہ سے تھا، تاہم ان میں یورپ اور جنوبی امریکہ کے بھی بہت سے ممالک شامل تھے۔

واشنگٹن ڈی سی میں بلیک لائفز میٹر تحریک کے مظاہرین اور پولیس کے درمیان محاذ آرائی ۔ 28 اگست 2020

واشنگٹن ڈی سی میں بلیک لائفز میٹر تحریک کے مظاہرین اور پولیس کے درمیان محاذ آرائی ۔ 28 اگست 2020

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے میں قانون کی حکمرانی، مساوات اور امتیاز سے بچاؤ کے امور کے شعبے کی سربراہ مونا رشماوی کا کہنا ہے کہ تفتیش کاروں کو تمام ملکوں میں اس طرح کے واقعات میں حیرت انگیز مماثلت کا پتا چلا، جس میں وہ مشکلات بھی شامل ہیں جن کا سامنا متاثرہ خاندانوں کو انصاف تک رسائی کے لیے کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں جرائم اوردوسرے تعصبات کی بنیادوں پر افریقی پس منظر رکھنے والوں سے منسلک پریشان کن رویے دیکھنے کو ملے جو قانون نافذ کرنےوالے افراد اور نظامِ انصاف کے ان کے ساتھ رابطوں کے انداز کو ظاہر کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سی ریاستوں میں افریقی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی نسلی بنیاد کی وجہ سے بطور خاص زیادہ کمزور واقع ہوئے ہیں۔

رشماوی کا کہنا ہے کہ اس تعصب کو، شناخت کی جانچ پرکھ ، روک کر پوچھ گچھ کرنے اور تشدد کی صورت میں، جس میں شدید طور پر زخمی کیے جانے اور ہلاکتیں بھی شامل ہیں، امتیازی سلوک کے طور پر برتا جاتا ہے۔

جارجیا میں جارج فلائیڈ کے لیے انصاف کے حق میں مظاہرہ۔

جارجیا میں جارج فلائیڈ کے لیے انصاف کے حق میں مظاہرہ۔

وہ کہتی ہیں کہ جب ایسے واقعات میں ہلاکتوں کی تحقیقات کی جاتی ہیں تو نسلی امتیاز، روایتی اور ادارہ جاتی تعصب کو شاذ و نادر ہی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جارج فلائیڈ کی ہلاکت کا واقعہ ایک استثنائی معاملہ ہے جس میں کسی عہدے دار کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

رشماوی کا کہنا تھا کہ ہمارے تفتیش کاروں کو نسلی امتیاز کے خلاف مظاہروں میں غیر ضروری اور غیر مناسب طاقت کے استمال کی بہت سی قابل بھروسہ شکایات ملی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کچھ ریاستوں میں مظاہروں کی نگرانی کے لیے فوج اور فوجی طریقہ کار کے استعمال پر خاص طور پر فکرمند ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افریقی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد اور وہ لوگ جو نسل پرستی کے خلاف ہیں، ان کی آوازیں لازمی طور پر سنی جانی چاہیئں اور ان کے تحفظات کو پیش نظر رکھا جانا چاہیئے۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے کی ہائی کمشنر مشعل بیچلٹ نے ریاستوں سے نسل پرستی سے ماوراء انصاف، برابری اور برقت ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے ۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply