پوٹن کا این بی سی نیوز کو انٹرویو، تمام امریکی الزامات مسترد

روس کے صدر ولادی میر پوٹن نے، ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر فوری طور پر یکسر مسترد کر دیا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے خلاف سائبر حملے کر رہا ہے۔

صدر بائیڈن جو اپنے پہلے آٹھ روزہ دورے میں برطانیہ میں جی سیون سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے بعد اب برسلز میں 30 رکنی دفاعی تنظیم نیٹو سربراہ کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیں، اسی ہفتے جینیوا میں روس کے صدر پوٹن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

صدر بائیڈن اپنے اس دورے میں مختلف مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو روس اور چین کی جانب سے معیشت، سلامتی اور سائبر حملوں کے چیلنجز کا مل کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

روسی صدر پوٹن نے پیر کے روز نشر ہونے والے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں روس پر عائد الزامات کی تردید کی۔

ان کا کہنا تھا کہ روس پر لگائے جانے والے الزامات کے شواہد اور ثبوت کہاں ہیں۔ یہ سب مضحکہ خیز ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کا الزام ہم پر لگایا جا رہا ہے۔ مثلاً الیکشن میں مداخلت، سائبرحملے، اور اسی طرح کی اور بہت سی چیزیں۔ یہ الزامات صرف ایک بار نہیں لگائے گئے، انہوں نے کہا کہ ایسے الزامات لگانے والوں نے کسی طرح کا ثبوت فراہم کرنے کا بھی تردد نہیں کیا۔ بقول ان کے یہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

صدر پوٹن این بی سی نیوز کے ساتھ اپنے انٹرویو کے دوران ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ 14 جون 2021

صدر پوٹن این بی سی نیوز کے ساتھ اپنے انٹرویو کے دوران ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں۔ 14 جون 2021

صدر پوٹن کا کہنا تھا کہ اس کا سادہ ترین طریقہ یہ ہے کہ ہم سکون سے بیٹھیں، اور سائبر سپیس پر مل کر کام کرنے کے لیے متفق ہو جائیں۔

جب پوٹن سے ان کے سیاس مخالف الیگزینڈر نوالنی کے بارے میں سوال کیا گیا، جو ان دنوں جیل میں قید ہیں، تو انہوں نے اس کے متعلق کچھ کہنے اور یہ ضمانت دینے سے انکار کر دیا کہ وہ جیل سے زندہ سلامت باہر نکل آئیں گے۔ پوٹن کا کہنا تھا کہ انہیں ویسے ہی برتاؤ کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ جیل میں دوسرے قیدیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ آپ اس معاملے کو ایک سیاسی مخالف کے ساتھ روس کے عدم برداشت کے رویے کے طور پر پیش کرتے ہیں، جب کہ ہمارا اس چیز کو دیکھنے کا انداز مختلف ہے۔ انہوں نے 6 جنوری کو واشنگٹن ڈی سی میں پیش آنے والے واقعہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، جب صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کا عمل رکوانے کے لیے سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کے ایک بڑے گروہ نے کانگریس کی عمارت پر حملہ کر دیا تھا، کہا ’آپ کو معلوم ہے کہ ساڑھے چار سو لوگوں کو کانگریس کی عمارت میں داخل ہونے کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا تھا، جب کہ وہ سیاسی مطالبات کے ساتھ وہاں آئے تھے۔‘

عالمی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق روس میں مظاہرے نوالنی کی حراست کے بعد شروع ہوئے تھے اور ایجنسی کے بقول زیادہ تر مظاہرے پرامن تھے اور یہ کہ کسی بھی موقع پر مظاہرین کسی سرکاری عمارت میں داخل نہیں ہوئے تھے۔

نوالنی کو زہر دیے جانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صدر پوٹن نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو زہر دے کر قتل کرنے کی ہماری عادت نہیں ہے۔

انہوں نے انٹرویو کرنے والے سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اس عورت کے قتل کا حکم دیا تھا جو کانگریس کی عمارت میں داخل ہوئی تھی اور جسے پولیس کے ایک اہل کار نے گولی مار دی تھی۔

6 جنوری کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی اس وقت کانگریس کی عمارت میں داخل ہو گئے جب وہاں صدر بائیڈن کی انتخابات میں جیت کی توثیق کا عمل جاری تھا۔ 6 جنوری 2021

6 جنوری کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی اس وقت کانگریس کی عمارت میں داخل ہو گئے جب وہاں صدر بائیڈن کی انتخابات میں جیت کی توثیق کا عمل جاری تھا۔ 6 جنوری 2021

پوٹن کا اشارہ اشلی بیبٹ کی طرف تھا جو 6 جنوری کو کانگریس پر ہجوم کے حملے کے دوران ایک کھڑکی کے راستے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش میں پولیس کی گولی کا نشانہ بن گئی تھی۔

توقع کی جا رہی ہے کہ صدر بائیڈن اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ مجوزہ ملاقات میں وہ امور اٹھائیں گے جن پر امریکہ روس کو مورد الزام ٹھیراتا ہے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply