چیمپلین ٹاور کے انہدام نے ‘سرف سائیڈ’ میں امیری اور غریبی کا فرق نمایاں کر دیا

میامی کے چھوٹے سے ساحلی قصبے سرف سائیڈ میں امیری اور غریبی کی تقسیم واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ایک جانب پر آسائش عمارتیں ہیں جو وہاں آنے والے مالدار غیرملکی سیاحوں کے لیے تعمیر کی گئی ہیں جب کہ دوسری طرف وہ عمارتیں ہیں جو عشروں پہلے متوسط طبقے کے افراد کے لیے بنائی گئی تھیں۔

حالیہ برسوں میں اس چھوٹے سے ساحلی قصبے نے بہت سی نئی رہائشی عمارتوں کو تعمیر ہوتے دیکھا ہے جن میں 3000 مربع فٹ پر محیط جدید اور آرام دہ رہائشی یونٹ ہیں۔ ان کی کھڑکیاں سمندر کی طرف کھلتی ہیں۔ ان کی قیمتیں ایک کروڑ ڈالر تک جاتی ہیں۔ دوسری جانب 800 مربع فٹ کے چھوٹے اپارٹمنٹ ہیں جو کئی عشرے قبل تعمیر ہوئے تھے۔ یہ پرانی وضع کے رہائشی یونٹ ہیں جن کی قیمت چار لاکھ ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

جنوبی فلوریڈا میں عمارتوں کی خرید و فروخت کے کاروبار سے منسلک اینا بوزووک کہتی ہیں کہ 24 جون کو جو 12 منزلہ چیمپلین ٹاور منہدم ہوا تھا، اسے 40 سال قبل تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ متوسط آمدنی والوں کے لیے بنائی جانے والی عمارت تھی۔

یہ عمارت اس چھوٹے سے قصبے میں امارت اور غربت کی تقسیم کو اجاگر کرتی ہے۔

چیمپلین ٹاور کے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری ہے۔ 6 جولائی 2021

چیمپلین ٹاور کے ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری ہے۔ 6 جولائی 2021

بوزوویک کا کہنا ہے کہ اس سانحہ کے بعد اب اکثر خریدار پرانی عمارتوں میں اپارٹمنٹ خریدنے سے گریز کریں گے۔ اس لیے نہیں کہ وہ گر سکتی ہے بلکہ اس وجہ سے کہ اس کی مرمت پر کثیر اخراجات اٹھیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ چیملین ٹاور کو مرمت کی ضرورت تھی اور وہ مرمت ہونے سے پہلے ہی گر گیا۔ اس کثیر منزلہ عمارت میں سائز کے لحاظ سے رہائشی یونٹس کی قیمت 3 لاکھ سے 8 لاکھ ڈالر تک تھی۔ لیکن اب اس سانحے کے بعد پرانی رہائشی عمارتوں کے یونٹس کی قدر و قمیت مزید گر جائے گی، جب کہ جدید اور پرآسائش عمارتوں کے یونٹس کی قیمت اب زیادہ تیز رفتاری سے آسمان کی جانب جانے لگے گی۔

چیملین ٹاورز کے سانحے سے قبل سرف سائیڈ کے سوا مربع کلومیٹر کے جزیرے میں تقریباً 6000 افراد رہائش پذیر تھےاور اس جزیرے کا شمار جنوبی فلوریڈا کے ان جزائر میں ہوتا تھا، جس کے متعلق کم ہی لوگ جانتے تھے۔ مگر جنوری میں سابق صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ اورداماد جیرا ڈ کشنر نے چیملین ٹاورز سے دو بلاک کے فاصلے پر ایک نئی اور لگژری عمارت میں ایک رہائشی یونٹ کرائے پر لیا تھا۔

یہ قصبہ اپنی صاف شفاف ساحلی تفریح گاہوں اور 12 منزلوں سے زیادہ اونچی عمارتوں کی تعمیر کی اجازت نہ ہونے کے باعث جانا جاتا ہے، جب کہ قریب واقع میامی کی ساحلی تفریح گاہیں اپنی نائٹ لائف کی رنگینیوں کی بنا پر دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہیں۔ وہاں موجود عمارتیں سرف سائیڈ کے مقابلے میں دو گنا اور تین گنا زیادہ اونچی ہیں۔

سرف سائیڈ کے میئر چارلس برکیٹ کہتے ہیں کہ چیملین ٹاور گرنے کا لوگوں پر گہرا اثر ہوا ہے۔ اس کے بعد عمارت کے باقی ماندہ حصے کو گرائے جانے اور پھر سمندری طوفان ایلسا کے ساتھ تیز ہواؤں کے جھکڑوں اور شدید بارشوں نے لوگوں کو حوصلوں کو مزید پست کر دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، لیکن ایک اچھی خبر یہ ہے کہ ہم نے اپنے وسائل کو یکجا کر لیا ہے اور ہم سب کی توجہ ایک ہی جانب مرکوز ہے۔

ریان میرمر اس سال کے شروع میں پام بیج کاؤنٹی سے یہاں اس لیے منتقل ہوئے تھے کہ یہ قصبہ نسبتاً پرسکون ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس عمارت سے، جہاں سابق صدر ٹرمپ کی بیٹی اور داماد رہ رہے ہیں، چند قدموں کے فاصلے پر ایک اپارٹمنٹ 1375 ڈالر ماہانہ پر کرائے پر لیا ہے، جب کہ ایوانکا کے اپارٹمنٹ کا کرایہ 38 ہزار ڈالر ماہانہ ہے۔

چیمپلین ٹاور کا ایک حصہ 24 جون کی صبح اس وقت گر گیا تھا جب لوگ اپنے اپارٹمنٹس میں سوئے ہوئے تھے۔ 25 جون 2021

چیمپلین ٹاور کا ایک حصہ 24 جون کی صبح اس وقت گر گیا تھا جب لوگ اپنے اپارٹمنٹس میں سوئے ہوئے تھے۔ 25 جون 2021

ایرامس آرمور اور فریڈی ایلس کا اس قصبے میں ڈرائی کلینگ کا کاروبار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کرونا کی وبا سے ان کے کاروبار پر بہت زد پڑی ہے اور کوئی گاہک باقی نہیں رہا۔ اور اب چیملین ٹاورز گرنے کے بعد گلی کوچوں میں سناٹا ہو گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ معمول کے حالات میں یہاں کافی رونق ہوتی تھی۔ یہاں کھانے پینے کی کافی دکانیں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت گرنے کی ذمہ داری مقامی عہدے داروں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس عمارت کو پہلے چیک کیوں نہیں کیا تھا۔

ایلس کا کہنا تھا کہ پہلے کرونا کی وبا آئی اور اب یہ عمارت گرپڑی۔ ہمارے لیے یہ بہت برا وقت ہے۔ہمیں مدد کی اشد ضرورت ہے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply