‘چین اور افغانستان ایجنڈے میں سرِ فہرست ہوں گے’

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے آئندہ ہفتے امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل ‘کواڈ ممالک’ کا اجلاس واشنگٹن ڈی سی میں بلایا ہے جسے افغانستان کی صورتِ حال اور ہند بحرالکاہل میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی، جاپان کے وزیرِ اعظم یوشی ہائید اور آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن صدر بائیڈن کی دعوت پر امریکہ جائیں گے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اجلاس 24 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں ہو گا۔

اس سے قبل مارچ میں کواڈ گروپ کا ورچوئل اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں رکن ممالک نے انڈو پیسفک خطے میں چین کی بڑھتی سرگرمیوں اور اثرات کے پیشِ نظر باہمی تعاون میں اضافے پر زور دیا تھا۔

تجزیہ کار خطے کے معروضی حالات اور افغانستان کی تازہ ترین صورتِ حال کے تناظر میں اس اجلاس کو اہم قرار دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے ایک سینئر تجزیہ کار پشپ رنجن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے اور چین سے اس کے قریبی رشتوں کے پیشِ نظر کواڈ کے لیے افغانستان میں ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔

ان کے بقول پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اشارہ دیا ہے کہ پاکستان ایک نیا گروپ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس میں پاکستان کے علاوہ متحدہ عرب امارات، ترکی اور چین ہوں گے اور ایران کو بھی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بعض وسطی ایشیائی ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

ان کے خیال میں ایسا لگتا ہے کہ کواڈ کے اجلاس میں نیا گروپ بنانے کی کوشش کو ناکام بنانے پر بھی غور کیا جائے گا۔

ان کے بقول بظاہر اس اجلاس کا مقصد انڈو پیسفک، جنوبی بحیرہ چین، تبدیلی آب و ہوا اور کرونا وبا جیسے معاملات پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔ لیکن زیادہ توجہ چین پر دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی مانند آسٹریلیا اور جاپان نے بھی افغانستان میں کافی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس لیے وہ بھی افغانستان میں اپنے اثرات بڑھانے کی کوشش کریں گے جب کہ امریکہ ان ملکوں کے ذریعے اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کی کوشش کرنا چاہتا ہے۔

پشپ رنجن کا کہنا تھا کہ افغانستان سے امریکہ کے انخلا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکہ اس خطے میں موجود نہیں رہے گا۔ وہ کواڈ کے توسط سے یہاں اپنے اثرات قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کے علاوہ یہ گروپ افغانستان میں بھی خود کو سرگرم کرنے کی کوشش کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ جاپان نے 2001 سے اب تک افغانستان میں 6.8 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے علاوہ ابھی جلد ہی اس نے اضافی 720 ملین ڈالر کی منظوری دی ہے جس میں سے کچھ رقم فراہم کی جا چکی ہے۔

ان کے مطابق آسٹریلیا نے افغانستان میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ بھارت نے بھی تین ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ لہٰذا افغانستان میں ان ملکوں کے مفادات وابستہ ہیں جن کا تحفظ وہ یقینی بنانا چاہیں گے۔

ان کے بقول جب آسٹریلیا نے افغانستان سے اپنے فوجی واپس بلائے تو چین نے الزام لگانا شروع کر دیا کہ آسٹریلوی فوجیوں نے افغانستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس نے اس کی بین الاقوامی جانچ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ لہٰذا افغانستان کے تناظر میں چین اور آسٹریلیا کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق کواڈ میں جاپان اور آسٹریلیا بھی اپنی باتیں مضبوطی کے ساتھ رکھیں گے۔

ان کے بقول یہ بھی کافی اہم ہے کہ اس اجلاس سے قبل ابھی حال ہی میں آسٹریلیا کے وزیرِ دفاع اور وزیرِ خارجہ نے نئی دہلی کا دورہ کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصبوں سے مختلف اُمور پر تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان دوروں میں بھی افغانستان کے مسئلے پر بات چیت ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ جس مقصد سے کواڈ کی تشکیل ہوئی تھی ایسا لگتا ہے کہ اب اسے افغانستان کی جانب موڑنے کی کوشش کی جائے گی۔

ان کے مطابق انڈو پیسفک، جنوبی بحیرہ چین، ماحولیات اور کرونا وبا جیسے ایشوز پر بھی گفتگو ہوگی لیکن یہ سب دنیا کو دکھانے کے ایشوز ہیں۔ اصل بات افغانستان میں بدلتی ہوئی صورت حال پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔

پشپ رنجن نے مزید کہا کہ ممکن ہے کہ کواڈ گروپ میں کچھ ایسے ہم خیال ملکوں کو بھی جو افغانستان میں دلچسپی رکھتے ہیں اور جو چین سے ناراض ہیں، شامل کرکے اس گروپ میں توسیع کی جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ طالبان قیادت کافی بالغ نظر ہے۔ وہ سرمایے کے لیے صرف چین کے سہارے نہیں رہے گی۔ وہ دوسرے ملکوں کے ساتھ بھی اپنے رشتے بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ وہاں سرمایہ کاری ہو سکے۔ لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ طالبان حکومت کواڈ جیسے گروپ کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔

تجزیہ کار ہرتوش بل نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے تناظر میں اس اجلاس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ چین کے ساتھ طالبان حکومت کی بڑھتی ہوئی نزدیکیاں بھی ہیں۔

ان کے بقول چین ترقی پذیر ملکوں کو کرونا ویکسین فراہم کرنے کے فیصلے سے بھی اپنے اثرات کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بھی کواڈ رہنماؤں کے لیے تشویش کی بات ہے۔

‘مودی بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے خواہاں ہیں’

خیال رہے کہ جو بائیڈن کے امریکہ کے صدر بننے کے بعد ان کی میزبانی میں کواڈ کا پہلا اجلاس ہونے جا رہا ہے۔

ہرتوش بل کے مطابق مودی کے سابق امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی پائی جاتی تھی۔ وہ بائیڈن کے صدر بننے کے بعد پہلی بار امریکہ جا رہے ہیں۔ لہذٰا اُن کی کوشش ہو گی کہ نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ بھی وہ اپنے تعلقات مزید بہتر کریں۔

بعض دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کواڈ اجلاس سے ہٹ کر مودی کی کچھ اور مصروفیات ہو سکتی ہیں۔ وہ امریکی کانگریس کے اراکین سے بھی ملاقاتیں کر کے بھارت سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیاں دُور کرنے کی کوشش کریں گے۔

ان کے بقول خود امریکہ کی نائب صدر کاملا ہیرس بھی انسانی حقوق کے حوالے سے بات کرتی رہی ہیں۔ لہٰذا مودی کو اس معاملے پر اپنی حکومت کا مؤقف رکھنے کا موقع ملے گا۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول بھی ان کے ساتھ جا رہے ہیں۔ وہ اس بارے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ بھارتی حکومت یہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات کی تردید کرتی آئی ہے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply