چین کی نشہ آور ادویات کی میکسیکو کے راستے امریکہ میں اسمگلنگ روکنے کی کوششیں



چین کی جانب سے میکسیکو کے راستے مہلک منشیات امریکہ اسمگل کرنے کے مبینہ کاروبار کے تدارک کے سلسلے میں امریکی صدر جوبائیڈن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ چین کی ایما پر جاری یہ سرگرمی ناکام بنائی جائے گی۔

بدھ کے روز ریاست اوہائیو کے شہر سنسناٹی سے سی این این کے ٹاؤن ہال پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے، بائیڈن نے کہا کہ ان کی انتظامیہ منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے درکار اقدامات کر رہی ہے، جس کے لیے محکمہ انصاف میں کارکنوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ‘فنٹائل’ نامی نشہ آور گولی ہیروئن کے مقابلے میں 50 سے 100 گنا زیادہ مہلک ہے۔

بائیڈن کے پیش رو، ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دور حکومت میں امریکہ میں صحت کے بحران کا اکثر ذکر کیا کرتے تھے، جو مصنوعی نشہ آور ادویات کی آزادانہ دستیابی کے نتیجے میں بڑھ رہا ہے، جو بنیادی طور پر ‘فنٹائل’ نامی خواب آور دوا کی لت کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔ اس حوالے سے، سابق امریکی صدر بارہا چین پر تنقید کیا کرتے تھے جہاں سے فنٹائل برآمد ہوتی ہے، یا پھر اس کے بنیادی کیمیائی اجزا بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں اور بعد ازاں یہ دوااسمگلروں کے ہاتھوں میکسیکو کے راستے سے ہوتے ہوئے امریکہ پہنچ جاتی ہے۔

میکسیکو پر الزام ہے کہ وہاں منشیات کے اسمگلروں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کی جاتی۔

بائیڈن کو اقتدار سنبھالے چھ ماہ ہو گئے ہیں۔ اس دوران یہ اوہائیو کا ان کا تیسرا دورہ ہے؛ جس کی مناسبت سے جاری کیے گئے 1500 الفاظ پر مشتمل ایک تفصیلی مضمون میں ہائی وے کے پلوں سے لے کر کمسنی میں موٹاپے کے عارضے کی نوعیت کے قابل تشویش تمام اہم معاملات درج ہیں۔ تاہم، اس میں منشیات کے بحران کا کوئی ذکر نہیں ہے، حالانکہ اوہائیو میں منشیات کے باعث ہلاکتوں کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ منشیات کی وجہ سے ایک عشرے سے ریاست میں اموات میں کافی اضافہ ہو چکا ہے۔

ایئر فورس ون کی پرواز کے دوران وائس آف امریکہ نے عہدے داروں سے سوال کیا کہ آیا منشیات کا معاملہ بائیڈن انظامیہ کے لیے ایک ترجیحی مسئلہ ہے، جس پر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے بتاہا کہ یقینی طور پر ایسا ہی ہے۔ بقول ان کے، کوئی شک نہیں کہ یہ مسئلہ اوہائیو کے عوام کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ صحت عامہ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی ماہر یہی کہے گا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو ترجیح ملنی چاہیے اور متاثرین کے لیے صحت عامہ کی کوریج دستیاب ہونی چاہیے۔

اس ضمن میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے چین سے متعلق طے کیے گئے اہداف ابھی پورے نہیں ہوئے۔

سن 2018ء میں چین نے منشیات کے کاروبار کے خلاف کارروائی کی تھی، لیکن چین نے فنٹائل کے اضافی بنیادی اجزا کی روک تھام کے سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا۔ چین کے برآمدکنندگان ابھی تک فنٹائل کے بنیادی کیمیائی اجزا میکسیکو روانہ کرتے ہیں، جب کہ امریکہ میں جن چینی شہریوں کے خلاف فنٹائل کی اسمگلنگ کی فررجرم عائد کی جاتی ہے، وہ روپوش ہو جاتے ہیں۔ یہ بات کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہےجسے اس سال جنوری میں جاری کیا گیا تھا۔

فنٹائل سے متعلق اس رپورٹ کے مصنف بین ویسٹاف نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں منشیات فروش ملکوں کی یہ روش روکنا آسان کام نہیں ہے۔

سینٹرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن نے گزشتہ سال اوہائیو میں نشے کی عادت سے متعلق رپورٹ جاری کی۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں نشہ آور ادویات کے محفوظ مقدار سے زیادہ استعمال کے روزانہ 14 کیس سامنے آتے ہیں، جب کہ متاثرین کی یومیہ مجموعی تعداد 5215 ہے، جو 2017ء کے اعدادو شمار کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

اور یوں، منشیات کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے معاملے میں، ملک کی 50 ریاستوں میں سے یہ وسط مغربی ریاست چوتھے درجے پر ہے۔ مجموعی طور پر امریکہ میں منشیات کے استعمال سے اموات کی تعداد ریکارڈ درجے تک بڑھ چکی ہے۔ کرونا وائرس کی وبا کے پہلے چھ ماہ کے دوران، نشہ آور ادویات کے استعمال میں تقریباً 27 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں واقع نیشنل ڈرگ کنٹرول پالیسی کے دفتر کے اعداد و شمار کے مطابق، اگست 2019ء سے اگست 2020ء تک منشیات کی اس لت کے باعث مجموعی طور پر 88000 اموات واقع ہوئیں۔

دفتر کی قائم مقام سربراہ، رجینا لابیلا نے اس سال اپریل میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ اس سنگین صورت حال کاباعث وہ نشہ آور ادویات ہیں جو فنٹائل اور مصنوعی اوپی آئیڈ سے بنتی ہیں۔

اوہائیو کی ہملٹن کاؤنٹی میں واقع نیوٹن گاؤں کے پولیس سربراہ ٹام سنیان نے سال 2017ء میں امریکی سینیٹ کے سامنے فنٹائل کی منشیات کے بحران سے متعلق ایک شہادتی بیان ریکارڈ کرایا تھا۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گاؤں کی صورت حال یہ ہے کہ پولیس کو موصول ہونے والی ہنگامی نوعیت کی ٹیلی فون کالیں زیادہ تر منشیات کی اورڈوز سے متعلق ہوتی ہیں، یا پھر اسلحے کے جرائم سے تعلق رکھتی ہیں۔

ہیملٹن کاؤنٹی سے ہر ہفتے منشیات کے اورڈوز کی نوعیت کے 50 سے 70 کیسز درج ہوتے ہیں،جبکہ اس نشے کی عادت سے کاؤنٹی میں ہر سال 400 سے زیادہ افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔

پولیس اہلکار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ منشیات کی یہ عادت ایک وبائی صورت اختیار کر گئی ہے۔

بقول ان کے، “میں نے ٹرمپ کو لکھا تھا کہ فوری اقدام کی ضرورت ہے، بصورت دیگر 70 ہزار سے ایک لاکھ امریکی موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔”

بائیڈن انتظامیہ نے منشیات کے تدارک کے حوالے سے چار ماہ قبل ایک سات نکاتی منصوبے کا اعلان کیا، جس کا مقصد اموات کی تعداد میں خاطر خواہ کمی لانا ہے۔ اس منصوبے پر آئندہ سال سے عمل درآمد ہو گا۔

اس منصوبے میں جن اہداف کو ترجیحی بنیاد پر شامل کیا گیا ہے، ان میں گرفتاریوں کی بجائے علاج پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔

نیو ٹاؤن پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ نشے کے عادی افراد کو درکار طبی امداد فراہم کی جائے، کیونکہ محض گرفتاری عمل میں لانے سے مسئلا حل نہیں ہو گا، اور ساری باتیں اور پالیسیاں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔

بائیڈن خود بھی اسی سوچ کے قائل ہیں۔

بدھ کو نشر ہونے والے ٹیلی ویژن پروگرام میں صدر بائیڈن نے کہا کہ منشیات کی لت میں مبتلا افراد کو قید خانے میں بند رکھنا دانش مندی نہیں ہو گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نشے کے عادی افراد کو لازمی طور پر بحالی کے مراکز بھیجا جائے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply