کیپیٹل ہل پر حملے کی سماعت، پہلے روز چار پولیس افسروں کی گواہی

امریکی پولیس کے چار افسروں نے منگل کے روز 6 جنوری کو واشنگٹن میں کانگریس کی عمارت پر دھاوا بولنے کے واقعات کی تحقیقات کرنے والی کانگریس کی کمیٹی کو ان تفصیلات سے آگاہ کیا کہ کس طرح سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے کانگریس کی عمارت کے اندر گھس کر جو بائیڈن کی امریکی صدر کے طور پر توثیق کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔

پولیس افسروں نے، جن میں سے دو کا تعلق یو ایس کیپیٹل پولیس فورس اور دو کا واشنگٹن سٹی پولیس کے محکمے سے تھا، بتایا کہ جب تقریباً 800 بلوائیوں نے

چھ جنوری کو کانگریس کی عمارت پر حملے کی سماعت میں پہلے روز گواہی دینے والے چار پولیس اہل کار۔

چھ جنوری کو کانگریس کی عمارت پر حملے کی سماعت میں پہلے روز گواہی دینے والے چار پولیس اہل کار۔

قانون نافذ کرنے والے حکام پر قابو پاتے ہوئے، نسلی اور سیاسی نعروں سے ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے، پولیس کے ساتھ دست بدست لڑتے ہوئے، ان پر سوزش پیدا کرنے والا کیمکل چھڑکتے ہوئے اور ان کے ہتھیار چھیننے کی کوشش کرتے ہوئے کانگریس کی عمارت پر دھاوا بولا تو انہیں اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔

پولیس اہل کاروں نے یہ گواہی چھ ماہ قبل کانگریس کی عمارت پر ہونے والے مہلک حملے کی عوامی سماعت کے پہلے روز دی۔ یہ حملہ امریکہ کی دو سو سال سے زیادہ پرانی تاریخی کیپیٹل کی عمارت پر، جسے امریکی جمہوریت کی ایک علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے پر ہونے والا بدترین حملہ تھا۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے سات ارکان کانگریس اور ری پبلیکن پارٹی کے دو قانون ساز پر مشتمل کمیٹی نے اس گواہی کی سماعت کی، جب کہ قومی ٹیلی وژن کے ناظرین نے اسے دیکھا۔

پولیس افسر گونیل چھ جنوری کے حملے کے واقعات بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گیا۔

پولیس افسر گونیل چھ جنوری کے حملے کے واقعات بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گیا۔

ساڑھے تین گھنٹے کی اس سماعت میں یو ایس کیپیٹل پولیس کے افسر اکی لینو گونیل نے بتایا کہ بلوائیوں نے اسے غدار اور بے شرم قرار دیتے ہوئے چلا کر کہا کہ تمہیں مار دینا چاہیے۔

گونیل نے بتایا کہ اس روز ہمیں وہاں قرون وسطیٰ جسے میدان جنگ کا سامنا تھا۔ ہم نے اپنے جمہوری عمل کو پرتشدد ہجوم سے بچانے کے لیے دست بدست اور ایک ایک انچ کے لیے لڑائی لڑی۔

گونیل نے بتایا کہ ایک موقع پر بلوائیوں کے حملے میں وہ کچلے جانے کے قریب تھے۔ اس وقت میں نے سوچا کہ شاہد میں اس طرح مرنے جا رہا ہوں۔

واشنگٹن پولیس کے افسر مائیکل فینان نے قانون سازوں کو بتایا کہ مجھے بلوائیوں نے دبوچا، مارا پیٹا اور اس دوران وہ مجھے ملک کا غدار کہہ کر پکارتے رہے۔ اس وقت مجھے یہ خطرہ لاحق تھا کہ میں اپنے ہی اسلحے سے مارا جاؤں گا۔

اس نے بتایا کہ مجھے بار بار بجلی کے جھٹکے دیے گئے۔ میں اس وقت چیخ چلا رہا تھا، لیکن میں اپنی ہی آواز نہیں سن پا رہا تھا۔

واشنگٹن پولیس کے افسر ڈینیئل ہوگز نے، جو کیپٹل ہل کے ایوان کے دروازے میں پھنس گئے تھے، بتایا کہ بلوائیوں نے چیخ کر کہا تم اسی طرح کچل کر مر جاؤ گے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس بلوائیوں کے ہجوم کو روکنے کے قابل نہیں رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک بلوائی نے اپنا انگوٹھا میری آنکھ میں گھسا کر اسے نکالنے کی کوشش کی۔ میں مدد کے لیے چلایا تو اس وقت کچھ اور پولیس اہل کار وہاں آ گئے اور انہوں نے میری جان بچائی۔

یو ایس کیپیٹل پولیس کے ہیری ڈن نے، جو سیاہ فام ہیں، بتایا کہ بلوائیوں نے یہ تصور کرتے ہوئے کہ میں نے بائیڈن کو ووٹ دیا ہے، مجھ پر نسلی تعصب کے جملے کسے۔

انہوں نے کہا کہ اس روز جو کچھ ہوا، مجھے آج بھی اس پر دکھ ہوتا ہے۔

اس حملے کے دوران ایک بلوائی کیپیٹل پولیس افسر کی گولی سے مارا گیا۔ تین بلوائی طبی ایمرجنسی کے باعث ہلاک ہوئے۔ دو پولیس اہل کاروں نے اس واقعہ کے باعث خودکشی کی۔ جب کہ 500 سے زیادہ بلوائیوں پر مختلف فوجداری دفعات کے تحت مقدمے چلائے جا رہے ہیں۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply