گزشتہ برس نشہ آور ادویات کی زیادتی سے ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے، رپورٹ

امریکہ میں امراض کے نگراں ادارے کے مطابق ملک میں گزشتہ سال ریکارڈ ایک لاکھ سات ہزار سے زائد افراد نشہ آور ادویات کی زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہوئے ۔ ان اعدادو دشمار پر غور کریں تو یہ ایسا ہے جیسے نشہ کی زیادتی کے باعث ہر پانچ منٹ میں ایک امریکی شہری کی ہلاکت واقع ہو رہی ہو۔

سینٹرز فار ڈزیزکنٹرول اینڈ پریونشن یعنی سی ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ سال 2021 کے عبوری ڈیٹا کے اعدادوشمار اس سے گزشتہ سال کی ہلاکتوں کے مقابلے میں 15 فی صد زائد ہیں۔

سی ڈی سی یہ اعدادوشمار شہریوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر درج ‘موت کی وجہ’ کے خانے سے اکٹھا کرتا ہے۔

نشہ آور ادویات کی زیادتی سے اموات میں جغرافیائی طور پر کوئی ترتیب نہیں پائی گئی۔ مثال کے طور پر سال 2021 میں ریاست الاسکا میں ان اموات میں 75 فی صد اضافہ دیکھا گیا جو کہ کسی بھی ریاست میں پایا جانے والا سب سے بڑا اضافہ تھا جب کہ ریاست ہوائی میں اوور ڈوز اموات کی شرح میں دو فی صد کمی دیکھنے میں آئی۔

امریکی قومی ادارہ برائے ڈرگ اینڈ ابیوز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نووا والکو کے مطابق یہ اعدادوشمار حیران کن ہیں جب کہ وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں صورتِ حال کو نا قابلِ قبول قرار دیتے ہوئے نئی قومی ڈرگ کنٹرول حکمتِ عملی کے فروغ پر زور دیا گیا ہے۔

اس حکمتِ عملی میں نشے میں مبتلا افراد کو علاج کی طرف مائل کرنا، ڈرگ ٹریفکنگ کے سدباب اور ڈرگ اوور ڈوز کے نشے کے اثر کو زائل کرنے والی دوا ‘نیلوکسون’ کی رسائی بڑھانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

امریکہ میں کوکین کی زیادتی سے اموات میں 23 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

امریکہ میں کوکین کی زیادتی سے اموات میں 23 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

امریکہ میں 1990 سے نشہ آور ادویات کی زیادتی سے ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ان میں درد کی شدت کو کم کرنے والی افیم سے بنی گولیاں، ہیروئن کے نشے کی لت اور حال ہی میں غیر قانونی فینٹینل کا بڑھتا ہوا استعمال شامل ہے۔

گزشتہ سال ہی فینٹینل اور دوسری مصنوعی اوپیوئڈز کی زیادتی کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتیں 71,000 سے تجاوز کر گئی تھیں جو پیوستہ سال کے مقابلے میں 23 فی صد زیادہ تھیں۔

اسی طرح کوکین کی زیادتی سے اموات میں 23 فی صد اضافہ دیکھا گیا جب کہ میتھ اور دیگر نشوں کی وجہ سے شرح اموات میں 34 فی صد اضافہ دیکھا گیا۔

حکام کے مطابق نشے کی زیادتی کی وجہ سے اموات میں عموماً ایک سے زیادہ نشہ آور ادویات کے استعمال کو ذمے دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ کچھ افراد ایک ساتھ کئی مختلف نشہ آور اشیاء استعمال کرتے ہیں جب کہ اکثر ڈرگز میں سستی دستیاب فینٹینل کی ملاوٹ بھی پائی گئی ہے جس کی موجودگی کے بارے میں گاہک کو بھی خبر نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر والکو کے مطابق مجموعی صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ بہت سے افراد جن میں کم عمر افراد اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو نشے کی باقاعدہ عادت نہیں رکھتے اب ان طاقت ور نشہ آور ڈرگز تک جن کی ذرا سی بھی زیادتی خطرناک ہو سکتی ہے، رسائی رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کرونا وبا کے دوران پابندیوں نے نشہ کرنے والے افراد کو مزید تنہا کردیا اور ان کی مدد تک رسائی محدود ہوگئی جس کی وجہ سے ایسی ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوا۔

[ اس خبر کا مواد خبر رساں ادارے’ ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لیا گیا ہے]



Source link

کیٹاگری میں : USA