گوانتاناموبے سے لطیف ناصر کی رہائی اور مراکش منتقلی

امریکہ کے محکمہ دفاع نے پیر کو اعلان کیا کہ کیوبا میں گوانتاناموبے کے امریکی حراستی مرکز سے لطیف ناصر کو رہا کر دیا گیا ہے۔

پنٹاگان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ناصر کو اپنے آبائی وطن مراکش منتقل کیا جا رہا ہے۔

صدربائیڈن کے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد گوانتاناموبے سے یہ کسی پہلے قیدی کی رہائی ہے۔ اس سے قبل صدر بائیڈن یہ اشارۃً کہہ چکے ہیں کہ ان کی انتظامیہ کیوبا میں قائم حراستی مرکز کو بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جہاں 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد غیرملکی مشتبہ افراد کو رکھا جا رہا ہے۔

ناصر کو مئی 2002 میں افغانستان میں طالبان کے لیے لڑنے کے الزام میں گوانتانامو بے لایا گیا تھا۔ اس پر ایک کمانڈر کی حیثیت سے کام کرنے اور ہتھیاروں کی تربیت دینے کا الزام تھا۔

اس کی حراست کے پانچ برس کے بعد امریکی فوج، ہوم لینڈ سیکیورٹی، محکمہ انصاف اور داخلہ کے سینئر عہدے داروں پر مشتمل ایک نظر ثانی بورڈ نے اس نتیجےپر پہنچنے کے بعد اسے رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا کہ اب وہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

عبدالطیف ناصر، فائل فوٹو

عبدالطیف ناصر، فائل فوٹو

نظرثانی بورڈ نے اپنی سفارش میں کہا تھا کہ اسے اس کے آبائی وطن مراکش بھیج دیا جائے جہاں اس کے اپنے خاندان کے ساتھ مضبوط روابط ہیں۔ لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا۔

محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ ناصر کی رہائی کے بعد گوانتاناموبے میں 39 قیدی باقی رہ جائیں گے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ لطیف ناصر جس کی عمر 55 سال کے لگ بھگ ہے، پیر کو مراکش پہنچا جہاں پولیس نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے دہشت گردی سے منسلک مبینہ الزامات پر پوچھ گچھ کرے گی۔ تاہم، گوانتاناموبے میں اس پر کبھی بھی دہشت گرد کارروائیاں کرنے کا الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔

ایک سینئر عہدے دار کا کہنا ہے کہ باقی رہ جانے والے 39 قیدیوں میں سے 10 بیرون ملک منتقلی کی اہلیت پر پورے اترتے ہیں، جب کہ 17 اپنی ممکنہ منتقلی کے لیے نظرثانی کے عمل سے گزرنے کی شرائط پوری کرتے ہیں؛ 10 سزا کے لیے ملٹری کمشن کے مرحلے سے گزر رہے ہیں جب کہ باقی ماندہ دو کو سزا سنائی جا چکی ہے۔



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply