56 سال بعد بھی خدشات برقرار

امریکہ میں ووٹنگ رائٹس ایکٹ یا حقِ راہے دہی کے قانون پر اس وقت کے صدر لنڈن بی جونسن نے 6 اگست 1965 کو دستخط کیے تھے۔ اگرچہ یہ قانون نافذ ہوئے 56 برس گزر چکے ہیں لیکن آج بھی یہ امریکہ کی سیاست میں ایک اہم موضوع ہے۔

اس قانون کو شہری حقوق سے متعلق امریکی کانگریس سے منظور ہونے والی کامیاب ترین قانون سازی قرار دیا جاتا ہے۔ اس قانون کی منظوری کے چند ماہ بعد ہی حقِ رائے دہی سے محروم لاکھوں سیاہ فام امریکیوں کے ووٹ رجسٹرڈ ہوگئے تھے۔

بعض ماہرینِ سیاسیات کے نزدیک یہ قانون سازی امریکہ کی تاریخ میں اتنی بڑی ڈرامائی تبدیلی تھی کہ وہ اسے امریکہ میں 1861 سے 1865 تک کی خانہ جنگی ختم ہونے کے بعد شروع ہونے والے ’تعمیرِ نو کے دور‘ کے بعد ملک کے لیے ’دوسری تعیمرِ نو‘ قرار دیتے ہیں۔

اس قانون کی منظوری کو نصف صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن ووٹنگ کے حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس تاریخی قانون سازی کو آج بھی کئی سنجیدہ خطرات لاحق ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس قانون کو امریکہ کی مختلف ریاستوں میں منظور کیے جانے والے ایسے قوانین سے خطرہ در پیش ہے جو اس ووٹ کے حق کو محدود کرتے ہیں۔

امریکہ میں ووٹنگ کے حقوق پر ہونے والی یہ قانون سازی تاریخ کی اہم پیش رفت سے حال کی سیاست کا اہم موضوع بننے تک کئی تدریجی مراحل سے گزری ہے۔

جب سب کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا

امریکہ کا آئین 1788 میں منظور ہوا تو اس میں تمام شہریوں کو ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔ البتہ خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد 1870 میں پندرھویں آئینی ترمیم منظور کی گئی جس میں تمام مرد شہریوں کو ’نسل، رنگ یا غلامی کی سابقہ حالت‘ کی تفریق کے بغیر ووٹ کا حق دے دیا گیا۔ لیکن خواتین پھر بھی اس حق سے محروم تھیں۔ خواتین کو ووٹ کا حق 1919 میں حاصل ہوا۔

ووٹ کے حق کے لیے امریکہ میں خواتین 1918 میں مظاہرہ کررہی ہیں۔ (فائل فوٹو)

ووٹ کے حق کے لیے امریکہ میں خواتین 1918 میں مظاہرہ کررہی ہیں۔ (فائل فوٹو)

پندرھویں ترمیم کی صورت میں ہونے والی یہ تاریخی پیش رفت اس اعتبار سے عارضی ثابت ہوئی کہ امریکہ کے جنوبی ریاستوں میں سیاہ فاموں کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کے لیے تعلیمی اہلیت اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھی۔ ان اقدامات نے امریکہ میں شہری حقوق کی تحریک کو جنم دیا۔

سیلما کے پُل سے آگے ۔ ۔ ۔

اس تحریک میں فیصلہ کن موڑ سات مارچ 1965 کو آیا جب ریاست الاباما کے دارالحکومت منٹگمری کی طرف پُر امن مارچ کرنے والے 600 کارکنان سیلما کے ایک پل پر پہنچے تو پولیس نے اُن پر دھاوا بول دیا۔

نوجوان جون لوئس مارچ کرنے والوں کی رہنمائی کر رہے تھے۔ ان کی کھوپڑی میں فریکچر ہوا۔ وہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے 58 افراد میں شامل تھے۔

بعد ازاں لوئس کا شمار امریکہ میں شہری حقوق کے نمایاں ترین آوازوں میں ہوا اور وہ کانگریس کے رکن بھی منتخب ہوئے۔

’خونیں اتوار‘

اس واقعے کے مناظر پورے امریکہ میں ٹیلی وژن پر نشر ہوئے اور اسے ’بلڈی سنڈے‘ (خونیں اتوار) کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔ اس روز نشر ہونے والے ان مناظر کے بعد ملک گیر سطح پر اس واقعے کے خلاف آواز اٹھائی گئی جس سے ووٹنگ کے حقوق کے لیے نئی قانون سازی کی حمایت میں بھی اضافہ ہوا۔

جون لوئس نے وائس آف امریکہ کو 2015 میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا “بہت سے لوگوں کا مشکلات جھیلنا رنگ لایا۔ ہم نے جو خون دیا وہ رائیگاں نہیں گیا۔”

سیلما میں 1965 میں پولیس نے ووٹنگ رائٹس کے حق میں مارچ کرنے والے 600 کارکنان پر دھاوا بول دیا تھا۔ (فائل فوٹو)

سیلما میں 1965 میں پولیس نے ووٹنگ رائٹس کے حق میں مارچ کرنے والے 600 کارکنان پر دھاوا بول دیا تھا۔ (فائل فوٹو)

بعد ازاں صدر جونسن نے چھ اگست 1965 کو ووٹنگ رائٹس ایکٹ پر دستخط کیے جسے رائے دہی کے حقوق کے لیے ہونے والی مستحکم ترین قانونی سازی کہا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا کے پروفیسر اور ماہرِ سیاسیات ٹوڈ شا کے مطابق یہ دراصل سیاہ فاموں کے شہری حقوق کی جد و جہد کا نتیجہ تھا اور اس میں ووٹنگ حقوق کو کلیدی حیثیت حاصل تھی۔

ان کے مطابق یہ کہا جاسکتا ہے کہ شہری حقوق کی تحریک نہ ہوتی تو شاید ووٹنگ کا قانون منظور نہ ہوتا یا یقینی طور پر اپنی موجودہ حالت میں منظور نہیں ہوتا۔

پندرھویں ترمیم کا نفاذ

اس قانون سازی کا مقصد امریکہ کے آئین کی پندرھویں ترمیم کا اس کی روح کے مطابق نفاذ تھا۔ اس کی بدولت رنگ و نسل کی بنیاد پر حقِ رائے دہی سے محروم کرنے یا اس میں رکاوٹ بننے والے تمام طور طریقوں اور انتخابی ضابطوں کی قانونی حیثیت ختم ہو گئی۔

اس قانون کی منظوری کے بعد جنوبی ریاستوں میں ووٹ دینے کے لیے لٹریسی یا تعلیمی اہلیت کے ٹیسٹ کو معطل کر دیا گیا۔ ان ریاستوں میں عائد اس شرط کی وجہ سے کئی سیاہ فام شہریوں کے لیے اپنا ووٹ رجسٹر کرانا تقریباً ناممکن تھا۔

سیکشن چار اور پانچ

سن 1965 میں ہونے والی اس تاریخی قانون کی دو شقیں – چار اور پانچ – بہت اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہیں۔

امریکہ کی جنوبی ریاستیں چوں کہ نسلی امتیاز کی تاریخ رکھتی تھیں اس لیے ان شقوں کے ذریعے جنوبی ریاستوں پر اپنے ووٹنگ قوانین میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے قبل وفاق سے منظوری لینے کی شرط عائد کی گئی تھی۔

یہ دفعات دیگر امور کے علاوہ سیاہ فام ووٹرز کی رجسٹریشن کے لیے وفاقی ’ایگزامنرز‘ کے تقرر کا اختیار بھی فراہم کرتی ہیں۔

سابق سینیٹر جون لوئس (فائل فوٹو)

سابق سینیٹر جون لوئس (فائل فوٹو)

نیو اورلینز کے سابق میئر اور نیشنل اربن لیگ کے سربراہ مارک موریال کے مطابق یہ دو شقیں ووٹنگ رائٹس قانون کی مضبوط بنیاد ثابت ہوئیں۔

رجسٹریشن میں اضافہ

سیاہ فام امریکیوں کو پندرھویں آئینی ترمیم کے بعد رائے دہی کا حق تو پہلے ہی حاصل تھا البتہ اس ووٹنگ رائٹ ایکٹ کے ذریعے جن بہت سی رکاوٹوں کو دور کیا گیا، اس کے فوری اثرات برآمد ہونا شروع ہوئے۔

’امریکن سول لبرٹیز یونین‘ کے مطابق 1965 کے آخر تک ڈھائی لاکھ سیاہ فام ووٹر رجسٹر ہوئے جن میں سے ایک تہائی کو ریاستوں میں مقرر فیڈرل ایگزامنرز نے رجسٹر کیا۔

ماہرِ سیاسیات ٹوڈ شا کے مطابق سیاہ فام رائے دہندگان کی رجسٹریشن میں اضافے کے نتیجے میں سیاہ فام امریکی شہریوں نے بڑی تعداد میں انتخابات میں بطور امیدوار حصہ لینا شروع کیا۔ ایڈورڈ بروک وہ پہلے سیاہ فام امریکی تھے جو ’تعمیرِ نو‘ کے دور کے بعد 1966 میں سینیٹر منتخب ہوئے۔

ٹوڈ شا کے نزدیک 1970 کی دہائی کے اوائل میں اتنی تعداد میں سیاہ فام امریکی کانگریس کے رکن منتخب ہوچکے تھے کہ ان کی انجمن یا ’کانگریشنل بلیک کوکس‘ قائم ہوگئی۔

نیویارک یونیورسٹی کے برینن سینٹر فور جسٹس کے مطابق اسی دور میں محکمۂ انصاف جنوبی ریاستوں میں ووٹنگ رائٹس کو محدود کرنے والے قوانین اور قواعد کا راستہ روکنے کے لیے کوششوں میں مصروف تھا۔

ابتدا میں حقِ رائے دہی کے قانون کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن 1960 کی دہائی میں سپریم کورٹ نے اس پر قانونی اعترضات کو مسترد کر دیا جب کہ کانگریس اس قانون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بار بار اس میں تبدیلیاں کرتی رہی۔

کانگریس نے لسانی اقلیتوں اور معذور افراد کے تحفظ سے متعلق شقیں بھی اس قانون میں شامل کیں۔

صدر لنڈن جونسن 1964 میں شہری حقوق کے قانون پر دستخط کر رہے ہیں۔(فائل فوٹو)

صدر لنڈن جونسن 1964 میں شہری حقوق کے قانون پر دستخط کر رہے ہیں۔(فائل فوٹو)

سن 1982 میں قانون کے سیکشن دو میں ایک کلیدی ترمیم ہوئی جس نے ووٹنگ سے متعلق ایسے تمام طریقوں اور ضوابط کو کالعدم کردیا جو امتیازی سلوک کا باعث بنتے تھے۔ اس کے بعد ووٹنگ کے کئی ’امتیازی‘ ضابطوں پر قانونی سوالات اٹھائے گئے۔

ایک اور اہم موڑ

امریکہ کی سپریم کورٹ نے 2013 میں اپنے ایک فیصلے میں ووٹنگ کے قانون کی منظوری کے 50 برس کے بعد اس قانون کے سیکشن 4 کے اس حصے کو غیر مؤثر کر دیا جس میں رائے دہی سے متعلق قوانین میں ترمیم سے قبل ریاستوں کو وفاق سے توثیق کا پابند کیا گیا تھا۔

فیصلے میں چیف جسٹس جون رابرٹس نے لکھا کہ قانون سے متعلق دائرۂ کار میں ’چیزیں ڈرامائی انداز میں تبدیل ہو چکی ہیں‘ جو اس شرط کو غیر ضروری بناتی ہے۔

متعدد جائزوں اور عدالتی مقدمات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں انتخابی بے ضابطگیوں کا وجود تو ہے لیکن اس کا اثر اتنا محدود ہے کہ انہیں بآسانی نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

البتہ ریاستیں عموماً ووٹنگ رائٹس سے متعلق قانون سازی اور قانونی چارہ جوئی کے لیے انتخابی شفافیت سے متعلق خدشات کو بنیاد بناتی ہیں۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے پہلے ہی ان ریاستوں نے ووٹنگ کے ضوابط سخت کرنا شروع کر دیے تھے جہاں ری پبلکنز کو اکثریت حاصل تھیں۔ برینن سینٹر کے مطابق 2008 میں پہلے سیاہ فام امریکی صدر براک اوباما کے منتخب ہونے کے بعد ووٹنگ رائٹس سے متعلق قانون سازی کی یہ نئی لہر اٹھی۔

سپریم کورٹ کا حقِ رائے دہی سے متعلق قانون سازی پر 2013 کا یہ فیصلہ شیلبی بمقالہ ہولڈر کیس میں دیا گیا تھا جو ووٹنگ رائٹس کے حامیوں کے لیے دھچکا ثابت ہوا۔

نیو اورلینز کے سابق میئر اور شہری آزادیوں کے لیے سرگرم تنظیم ‘نیشنل اربن لیگ’ کے سربراہ مارک موریال کے مطابق اس فیصلے نے “ایک کے بعد دوسری ریاست میں” رائے دہندگان کو دبانے کے لیے ہونے والی قانون سازی کی “سونامی” کو بے لگام کر دیا۔

فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ہی ریاست ٹیکساس نے فوری طور پر ووٹرز کے لیے تصویری شناخت کی سخت شرط عائد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ شرط اس سے قبل ووٹنگ رائٹس ایکٹ کے تحت روک دی گئی تھی۔ ٹیکساس کے بعد دیگر ریاستوں نے بھی اس کی پیروی شروع کر دی۔

لیکن پھر اسی سال سپریم کورٹ نے سیکشن دو کے تحت چیلنج ہونے والے ریاست ایریزونا کے دو ووٹنگ قوانین کی توثیق کردی۔

سپریم کورٹ نے جن قواعد کو درست قرار دیا ان میں سے ایک کسی پریسینٹ (امریکہ میں انتخابی حلقہ بندی کی بنیادی اکائی) میں رجسٹرڈ ووٹ کو کسی دوسرے پریسینٹ میں ڈالنے کی صورت میں اسے گنتی میں شامل نہ کرنے سے متعلق تھا۔ دوسرے ضابطے کے مطابق اہلِ خانہ یا مددگار کے علاوہ کسی اور فرد کے لیے بیلٹ حاصل کرنے کو جرم قرار دے دیا گیا۔

ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ یہ دونوں قوانین نامناسب انداز میں سیکش دو کی خلاف ورزی ہیں اور اقلیتی ووٹروں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

البتہ سپریم کورٹ کے چھ قدامت پسند ججوں نے یہ دلیل تسلیم نہیں کی کہ ان قوانین سے رائے دہندگان پر دباؤ بڑھے گا۔

ووٹنگ حقوق کے حامیوں کو تشویش ہے کہ ایریزونا سے متعلق ہونے والے فیصلے سے ووٹنگ کے متعلق دیگر ریاستوں کے قوانین کو چیلنج کرنا مشکل ہوتا جائے گا۔

محکمۂ انصاف نے حال ہی میں جارجیا کے انتخابی قانون کو سیکشن دو کے تحت چیلنج کیا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ کی عمارت۔ (فائل فوٹو)

امریکی سپریم کورٹ کی عمارت۔ (فائل فوٹو)

عدالتی فیصلے سے متعلق ’لائرز کمیٹی فور سول رائٹس انڈر لا‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیمن ہیوٹ کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے عدالت ہمیں بغیر کچھ کہے یہ بتا رہی ہے کہ وہ نہیں مانتی کہ نسلی امتیاز آج بھی ماضی کی طرح ایک مسئلہ ہے، اس لیے عدالت نہیں مانتی کہ ایسے قوانین کی اب بھی ضرورت ہے۔

عدالتی فیصلے اور خدشات

ووٹنگ حقوق کے حامی حلقوں میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ قدامت پسندوں کے زیرِ اثر سپریم کورٹ ڈیموکریٹ صدر لنڈن جونسن کے دستخط شدہ اس قانون میں فراہم کیے جانے والے قانونی تحفظ کو بتدریج کمزور کر رہی ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کے سابق رکن اور ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سیاست دان بیٹ او رک کے مطابق “ہمیں پھر انہی قوتوں اور ویسے ہی متعدد انتخابی طور طریقوں کا سامنا ہے جن کی وجہ سے صدر جونسن اور اراکینِ کانگریس کو 1965 کا ووٹنگ رائٹس ایکٹ منظور کرنا پڑا تھا۔”

ری پبلکن قائدین اور کارکنان ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں ووٹنگ قوانین میں ان کی مجوزہ تبدیلیوں سے انتخابی عمل میں شفافیت بڑھے گی اور ممکنہ بے ضابطگیوں کی روک تھام ہوگی۔

مارچ کے اواخر میں جارجیا کے گورنر بریئن کیمپ نے کہا تھا کہ جارجیا اپنے انتخابات کو مزید محفوظ، قابلِ رسائی اور شفاف بنانے کی جانب ایک اور قدم بڑھے گا۔

ری پبلکن کے سیکڑوں بِل

رواں برس ری پبلکن قانون سازوں نے 49 ریاستوں میں انتخابی اصلاحات کے عنوان سے لگ بھگ 400 بل متعارف کرائے ہیں۔

بائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والے ‘برینن سینٹر فور جسٹس’ کے نزدیک یہ بلز کئی امریکیوں کے لیے ووٹ دینا مزید دشوار بنا دیں گے۔

ان 400 بِلز میں سے 30 قانون بن چکے ہیں۔ یہ تعداد 2011 میں منظور ہونے والے قوانین سے بھی زیادہ ہے جب ری پبلکنز نے اسی طرح بڑے پیمانے پر ایسی قانون سازی کی مہم شروع کی تھی۔

انتخابی قوانین میں ترامیم کی یہ مہم، جسے ناقدین لاکھوں امریکی اور بالخصوص سیاہ فام امریکی اور اقلیتی رائے دہندگان کے ووٹ دینے کے امکانات محدود کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں، سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بے بنیاد دعوؤں کے بعد سے زور پکڑ گئی ہے جن کے مطابق نومبر 2020 میں انتخابی دھاندلی کی وجہ سے وہ دوبارہ منتخب نہیں ہوسکے۔

ڈیموکریٹس کے نزدیک رائے دہندگان کے حقوق کو قانونی سطح پر کئی خطرات کا سامنا ہے۔

جولائی کے وسط میں صدر بائیڈن نے ریاست پنسلوینیا کے شہر فلاڈیلفیا میں خطاب کرتے ہوئے ری پبلکنز کی قانون سازی کی ان کوششوں کو جدوجہد کے بعد حاصل کیے گئے رائے دہی کے حقوق پر حملہ قرار دیا تھا۔

صدر بائیڈن نے انیسویں اور بیسویں صدی میں امریکہ میں نسلی بنیادوں پر تفریق کے قوانین اور سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ‘جم کرو’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اکیسویں صدی میں جم کرو کا حملہ حقیقی ہے۔

رائے دہندگان کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کی حالیہ کوششوں کے بارے میں بھی یہ اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ “یہ چیلنج بہت شدید ہے اور ہم اس سے سختی کے ساتھ نمٹیں گے۔”

رائے دہی سے متعلق قانون سازی کے لیے متحرک ری پبلکن حکام اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ ان قوانین کا مقصد ووٹنگ رائٹس کو محدود کرنا ہے۔

اس کے برعکس وہ کہتے ہیں کہ رائے دہندہ کی شناخت کے لیے سخت شرائط، غیر حاضری میں ووٹ دینے پر پابندی، ووٹر رجسٹریشن فہرستوں کو ختم کرنے اور دیگر تبدیلیوں سے انتخابات میں بے ضابطگیوں کی روک تھام ہو گی اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بڑھے گا۔

ٹیکساس کوششوں کا محور

ریاست ٹیکساس ووٹنگ قوانین کو انتہائی سخت کرنے کے لیے ری پبلکن پارٹی کی کوششوں کا محور بنی ہوئی ہے جہاں وہ اس سلسلے میں قوانین منظور کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

صدر بائیڈن نے رواں ماہ ووٹنگ حقوق سے متعلق فلڈلفیا میں خطاب کرتے ہوئے اظہارِ خیال کیا۔

صدر بائیڈن نے رواں ماہ ووٹنگ حقوق سے متعلق فلڈلفیا میں خطاب کرتے ہوئے اظہارِ خیال کیا۔

ٹیکساس میں یہ کوششیں اس تیزی سے جاری ہیں کہ ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے 50 ریاستی قانون ساز صرف اس لیے اپنی ریاست سے واشنگٹن ڈی سی چلے گئے تھے تاکہ کسی نئے قانون پر رائے شماری کے لیے درکار کورم کی شرط پوری نہ ہو اور گورنر گریگ ایبٹ اور ری پبلکن اکثریت یہ قانون منظور کرانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔

صدر بائیڈن نے جب ٹیکساس میں ووٹنگ قوانین پر تنقید کی تو اس کے بعد گورنر ایبٹ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ٹیکساس ووٹ دینا آسان اور دھاندلی کرنا مشکل بنا رہا ہے۔

کانگریس میں کیا ہوگا؟

سپریم کورٹ کے فیصلوں کو دیکھتے ہوئے ڈیموکریٹس نے رائے دہی کے حق کے تحفظ کے لیے کانگریس میں دو قوانین متعارف کرائے ہیں۔ ان میں ’جون لوئس ووٹنگ رائٹ ایڈوانسمنٹ ایکٹ‘ کے ذریعے ایک بار پھر ریاستوں میں ووٹنگ کے قواعد میں تبدیلی سے قبل وفاق سے ان کی توثیق کی شرط عائد کرنے کی تجویز ہے۔

’فور دی پیپل ایکٹ‘ کے عنوان سے دوسری مجوزہ قانون سازی میں زیادہ بڑے پیمانے پر حقوق فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے۔

اس قانون میں رائے دہندگان کی خود کار رجسٹریشن، جرائم کی وجہ سے منسوخ ہونے والے حقِ رائے دہی کی سزا کی تکمیل کے بعد بحالی اور قبل از وقت اور غیر حاضری میں ووٹنگ کے حق کے لیے اقدمات تجویز کیے گئے ہیں۔

ری پبلکن ان مجوزہ قوانین کے سخت خلاف ہیں اور ان کی وجہ سے رواں سال یہ تجاویز منظور نہیں ہوسکیں۔ جب تک صدر بائیڈن سینیٹ میں ان مجوزہ بلوں پر جاری طولانی بحث کو، جسے امریکی قانون سازی کی روایت میں ’فلیبسٹر‘ کہا جاتا ہے، ختم کرنے کی حمایت نہیں کرتے، اس وقت تک سینیٹ میں ڈیموکریٹس قانون سازی کے لیے مطلوبہ 60 ووٹ جمع نہیں کرپائیں گے۔

دوسری جانب ووٹنگ رائٹس کے لیے کام کرنے والے کارکن پُر امید ہیں کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود امریکہ میں 2022 کے وسط مدتی انتخابات میں رائے دہندگان بڑی تعداد میں ووٹ ڈالیں گے جس طرح ریکارڈ تعداد میں وہ 2020 میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے تھے۔

یہ تحریر ’وائس آف امریکہ‘ کے رپورٹر برائے محکمۂ انصاف اور ایف بی آئی مسعود فریور کے مضمون سے ماخوذ ہے



Source link

کیٹاگری میں : USA

Leave a Reply