برطانیہ کے 12 سالہ بچے نے ایک کے بعد ایک 45 مقناطیس نگل لئے تاکہ وہ اپنے پیٹ پر دھات چپکا سکیں۔ فوٹو: فائل

ایک ساتھ 54 مقناطیس نگلنے والے بچے کو طویل آپریشن کے بعد بچالیا گیا

ایک ساتھ 54 مقناطیس نگلنے والے بچے کو طویل آپریشن کے بعد بچالیا گیا

لندن: برطانیہ کے ایک نوعمر لڑکے نے ایک کے ایک بعد ایک 54 مقناطیس نگل لئے کیونکہ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس طرح پیٹ پر لوہے کے ٹکڑے چپک سکتے ہیں یا نہیں۔

12 برس کے رائلے موریسن کا تعلق گریٹر مانچسٹر سے ہے جنہوں ںے ایک تجربے کے طور پر 54 چھوٹے اور گول مقناطیس نگل لئے تھے۔ وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ شاید اس طرح لوہے کے ٹکڑے ان کے پیٹ سے چپک سکیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ رائلے کی طبعیت اتنی بگڑ گئی کہ وہ موت کے کنارے جاپہنچا اور مسلسل 6 گھنٹے کے طویل آپریشن کے بعد اس کی جان بچائی گئی جس میں سارے مقناطیس بدن سے نکالے گئے ہیں۔

رائلے کو یہ مقناطیس کرسمس تحفے میں ملے تھے جسے وہ 5 جنوری میں نگل گیا تھا۔ جب ایک بھی مقناطیس جسم سے باہر نہیں آیا تو اسے تشویش ہوئی اور اس نے اپنی والدہ کو بتایا۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ تمام گول مقناطیس باہم چپک کر ڈلوں کی صورت میں آنتوں اور معدے میں جمع ہوگئے تھے۔ رائلے نے اپنی ماں سے کہا تھا کہ اس نے صرف دو مقناطیس کھائے ہیں لیکن ایکسرے سے معلوم ہوا کہ ان کی تعداد غیرمعمولی طور پر بہت زیادہ ہے۔
لیکن اس سے پہلے ہی لڑکے کئی روز تک پیٹ کے شدید درد کا شکار رہا۔ کھانے پینے سے یکسر محروم رائلے کو ہر وقت الٹیاں آتی رہیں اور خیال تھا کہ شاید مقناطیس گولیوں نے معدے کے اندرونی نظام کو چھید ڈالا ہے۔

12 سالہ رائلے سائنسی تجربات کے شوقین ہیں اور یہ سانحہ بھی اسی جستجو کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ اس کے بعد رائلے کو مانچسٹر چلڈرن ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ایک طویل آپریشن کے بعد اس کے معدے اور آنتوں میں پھنسی مقناطیسی گولیاں نکالی گئی ہیں۔

اس پورے آپریشن میں چھ گھنٹے لگے لیکن رائلے موت کے منہ سے دوبارہ لوٹ آیا ہے۔

Leave a Reply