افغان خواتین کو شریعت کے تحت حقوق دینے کے لیے پرعزم ہیں، طالبان



امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی حالیہ تحقیق کے مطابق خواتین کے امن اور تحفظ کی عالمی درجہ بندی میں 170 ممالک میں افغانستان کا نمبر آخری ہے۔

آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ اس موقعے پر ایک طرف طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹ کیا کہ آج کا روز خواتین کے لیے اپنے حقوق طلب کرنے کا بہترین موقعہ ہے تو دوسری جانب افغان خواتین حقوق کی کارکنان نے یہ الزام عائد کیا کہ اس دن کی مناسبت سے انہیں ہسپتال میں خون کے عطیات دینے تک کی اجازت بھی نہ دی گئی۔

افغانستان میں خواتین حقوق تحریک کی سربراہ مونیسا مباریز نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدا میں ان کا ارادہ اس روز احتجاج کرنے کا تھا مگر طالبان کی جانب سے خواتین کارکنوں پر کریک ڈاؤن کی وجہ سے انہوں نے اس روز خون کے عطیات دے کر خواتین کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا۔ مگر، ان کے مطابق، کابل کے جمہوریت ہسپتال میں طالبان کی جانب سے متعین کیے گئے ڈائریکٹر نے انہیں عطیات دینے سے روک دیا۔

مباریز کے مطابق ہسپتال انتظامیہ نے خون کے عطیات دینے کی مہم کو بھی احتجاج کی کوشش تصور کیا۔ مباریز کا کہنا ہے کہ کارکنان نے اس کے بعد شہر کے مرکزی بلڈ بینک میں بھی خون کے عطیات دینے کی کوشش کی مگر وہاں بھی ناکامی کا سامنا رہا۔

انہوں نے کہا کہ خون عطیہ کرنا افغانستان کی خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کا عمل تھا جن کی عوامی صحت کی سہولتوں تک رسائی محدود ہے۔

دوسری جانب طالبان حکومت کی وزارت خارجہ نے خواتین کے عالمی دن پر عورتوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے سے جنگ کا شکار افغانستان میں خواتین کے لیے زندگی دشوار ہوئی ہے۔

وزارتِ خارجہ نے افغان خواتین کو اسلام کے ضابطوں اور افغان روایات کے تحت با عزت طریقے سے سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

ادھر طالبان حکومت کے ترجمان اور وزارت اطلاعات اور ثقافت کے نائب وزیر ذبیح اللہ مجاہد نے بھی سوشل میڈیا پر ٹویٹ کیا کہ 8 مارچ کا دن خواتین کا اپنے جائز حقوق طلب کرنے کے لیے بہترین موقعہ ہے۔ ان کا کہناتھا کہ طالبان حکومت خواتین کو ان کے شرعی حقوق دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت خواتین کے حقوق کا نہ صرف دفاع کرتی ہے بلکہ ان کی محافظ بھی ہے۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے کے مطابق خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر کابل میں محدود پیمانے پر تقاریب ہوئیں۔ افغان صحافیوں کی ایک تقریب میں خواتین صحافیوں کی خدمات کو سراہا گیا۔

اس موقعے پر وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے افغان صحافی آسیہ وردک کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ چھوٹے پیمانے پر ہی سہی، عورتوں کا دن کسی طور تو منایا جا رہا ہے۔

آسیہ وردک کا کہنا تھا کہ عالمی برادری نے افغان خواتین صحافیوں کی بہبود کے لیے کوئی اقدام نہیں کیے۔ افغان صحافیوں کی تنظیم کے مطابق افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد 80 فیصد خواتین صحافی بے روزگار ہوگئی تھیں۔



Source link