امریکہ میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کی ملازمتوں میں تیزی سے اضافہ



امریکہ میں سال 2000 کے بعد سے سٹیم (STEM)، یعنی سائنس ٹیکنالوجی، انجنئیرنگ اور میتھ میٹکس (ریاضی) کی ملازمتوں میں دوسری ملازمتوں کے مقابلے میں 3 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ گریجوایٹس کی تعداد اب بھی اتنی نہیں ہے کہ ان شعبوں کی ضروریات کو پورا کر سکے۔

امریکہ کی نیشنل سٹیم آنر سوسائٹی کے سربراہ کینٹھ ہیچٹ نے وائس آف امریکہ کی ایلیسن ہینی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس بات سے اندازہ لگائیں کہ ہم دن میں کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور فون کو کتنی بار استعمال کرتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ شعبے اس قدر تیزی سے ترقی کر رہے ہیں کہ جو بچے ابھی ہائی سکول میں ہیں، انہیں وہ ملازمتیں حاصل ہو سکتی ہیں، جن کا ابھی تک وجود بھی نہیں ہے۔

ایلی سن ہینی کے مطابق سٹیم میں ہائی ٹیک کا شعبہ بھی آتا ہے اور روایتی ملازمتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ مثال کے طور پر جہاں سٹیم میں کمپیوٹر سائنس سے متعلق ملازمتیں شامل ہیں، وہیں ان میں وبائی امراض کے ماہرین، انتہائی نگہداشت کی نرسیں اور نقشہ نگار بھی شامل ہیں۔

امریکہ میں کرونا وائرس کی وبا کے بعد طبی شعبے میں تیزی سے ملازمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کی ایک تحقیق کے مطابق امریکہ میں بین الاقوامی طلبا سٹیم شعبوں میں کمپیوٹر سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سب سے زیادہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

امریکی بیورو آف لیبر سٹیٹسٹکس کی ویب سائٹ کے مطابق 2019 سے 2029 کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سے متعلقہ ملازمتوں میں 11 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق یہ اضافہ دوسرے شعبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

بیورو کے مطابق توقع ہے کہ یہ شعبے امریکہ میں 2029 تک ملازمتوں میں مزید 5 لاکھ 31 ہزار 2 سو کا اضافہ کریں گے۔ بیورو کے مطابق کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا سے متعلق ملازمتیں اور انفارمیشن سیکیورٹی کی ملازمتوں کے لیے نئے ملازمین کی زیادہ طلب ہو گی۔

امریکہ میں کرونا وائرس کی وبا کے دوران ملک میں دستیاب گریجوایٹس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ بین الاقوامی طلبا کا وبا کے دوران اپنے آبائی ممالک میں وقت گزارنا ہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں سٹیم سے متعلق شعبوں میں بہتر تنخواہیں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔

کیلی فورنیا میں اساتذہ کی جانب سے قائم کئے گئے ادارے ایمپیکٹ سائنس جس کا مقصد نوجوان طلبا کو سائنس کی جانب متوجہ کرنا ہے، اس کی ایک تحقیق کے مطابق 2018 میں سٹیم سے متعلقہ شعبوں میں24 لاکھ اسامیاں خالی پڑی تھیں۔

اپریل 2021 میں شائع ہونے والی نیشنل فاؤنڈیشن فار امیرکن پالیسی کی ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی طلبا کو امریکی یونیورسٹیوں میں جگہ دینے سے امریکی طلبا کے لیے ان یونیورسٹیوں میں جگہ کم نہیں پڑتی بلکہ امریکی طلبا کے سٹیم شعبوں میں بیچلر کرنے کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تحقیق کے مطابق تمام شعبوں میں 10 بین الاقوامی طلبا کو ڈگری دینے کے مقابلے میں 15 امریکی طلبا کو سٹیم کے شعبوں میں ڈگری دی گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق اگر امریکی طلبا بین الاقوامی طلبا کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں تو اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ وہ سٹیم کے شعبوں میں ڈگری حاصل کریں گے۔

ادارے کے مطابق امریکہ میں سٹیم کے شعبوں میں گریجوایٹس کی قلت ہے۔ وہ طلبا جو سٹیم کے شعبوں میں ڈگری حاصل کرتے ہیں وہ اپنے کیرئیر کی ابتدا میں دوسرے طلبا سے زیادہ آمدن حاصل کرتے ہیں۔

جب کہ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ (آیس) نے پچھلے برس اعلان کیا تھا کہ کرونا وائرس کے دوران جو بین الاقوامی طلبا یونی ورسٹی کیمپس میں تعلیم حاصل نہیں کر رہے۔ ان کے ویزے ختم کیے جا رہے ہیں، تو اس پر گوگل، فیس بک، مائیکروسافٹ اور ٹوئٹر نے ادارے کو لکھے گئے ایک خط میں کہا تھا کہ ’’امریکہ کی مستقبل میں مسابقت برقرار رکھنے کی کوشش اس پر منحصر ہے کہ ہم بین الاقوامی ٹیلنٹ کو کس قدر اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں اور اسے ملک میں رکھ سکتے ہیں۔‘‘



Source link

Leave a Reply