سعودی عرب میں اب 17 برس کی لڑکیاں بھی ڈرائیونگ کر سکیں گی



سعودی عرب میں محکمۂ ٹریفک نے فیصلہ کیا ہے کہ 17 برس کی لڑکیوں کو بھی اب ڈرائیونگ کرنے کا اجازت نامہ دیا جائے گا۔

سعودی عرب کے انگریزی اخبار ’سعودی گزٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق اب نوجوان لڑکوں کی طرح لڑکیاں بھی ڈرائیونگ کر سکیں گی، جس کے لیے ٹریفک ڈپارٹمنٹ نے باقاعدہ ضوابط ترتیب دے دیے ہیں۔

ٹریفک ڈپارٹمنٹ ابتدائی طور پر 17 برس کی لڑکیوں کو ایک سال کا عارضی اجازت نامہ جاری کرے گا۔ ایک سال بعد اس عارضی اجازت نامے کو مقررہ شرائط پوری کرکے باقاعدہ لائسنس میں تبدیل کرایا جا سکے گا۔

سعودی عرب کے شہر جدہ سے شائع ہونے والے عربی اخبار ’عکاظ‘ کی رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کو ڈرائیونگ کا اجازت نامہ جاری کرنے سے قبل ڈرائیونگ اسکول میں ٹیسٹ دینا ہوگا جب کہ اس کے بعد ان کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔ ان دونوں کی رپورٹ مثبت آنے پر عارضی اجازت نامہ جاری ہوگا۔

جن لڑکیوں کو 17 برس کی عمر میں ڈرائیونگ کا عارضی اجازت نامہ جاری ہوگا، ان کی عمر 18 برس ہونے پر جب وہ تمام شرائط پوری کر لیں گی، تو انہیں مرد ڈرائیوروں کی طرح پانچ برس یا 10 برس کے لیے باقاعدہ لائسنس جاری کیا جائے گا۔

سعودی ٹریفک ڈپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ باقاعدہ ڈرائیونگ لائسنس بھی ان خواتین امیدواروں کو جاری ہوگا جن کے خلاف کسی قسم کے سنگین نوعیت کے جرائم کے الزامات نہیں ہوں گے۔ ان الزامات میں منشیات کا استعمال بھی شامل ہے۔

اسی طرح یہ بھی شرائط میں شامل کیا گیا ہے کہ وہ کسی قسم کی معذوری کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی ان کو کوئی سنگین مرض لاحق ہو۔ تاکہ وہ ڈرائیونگ کے دوران گاڑی کو باآسانی قابو میں رکھ سکیں۔

اسی طرح وہ 17 سالہ لڑکیاں جو کہ سعودی عرب کی شہری نہیں ہیں۔ ان کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ ان کے پاس قابلِ استعمال ’اقامہ‘ موجود ہو۔ سعودی عرب میں غیر سعودی شہریوں کو روزگار یا رہائش کے لیے جو اجازت نامہ جاری کیا جاتا ہے اسے ’اقامہ‘ کہا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر پابندی عائد تھی۔ یہ پابندی ستمبر 2017 میں ختم کی گئی تھی۔ جب کہ خواتین نے پہلی بار باقاعدہ سڑکوں پر ڈرائیونگ کا آغاز جون 2018 میں کیا تھا۔

سعودی خواتین کی جانب سے کار ڈرائیونگ کی شروعات پر ’بلوم برگ اکنامکس‘ نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ خواتین کی ڈرائیونگ سے سعودی عرب کی معیشت کو 2030 تک 90 ارب ڈالرز کا فائدہ ہونے کا امکان ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد اور سب سے زیادہ بااختیار شخصیت سمجھے جانے والے شہزادہ محمد بن سلمان نے اقتصادی اور سماجی اصلاحات کے وژن 2030 کا اعلان کر رکھا ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کا روشن خیال تشخص اجاگر کرنا ہے۔

قبل ازیں سعودی حکومت نے غیر ملکی جوڑوں کو ایک ساتھ ہوٹل کے کمروں میں قیام کی بھی اجازت دی تھی۔ جب کہ اس سے قبل خواتین کو محرم کے بغیر غیر ملکی سفر کرنے کی بھی اجازت دی جا چکی ہے۔ جب کہ سعودی عرب کی حکومت 2019 میں اعلان کر چکی ہے کہ خواتین بھی فوج میں شمولیت کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔



Source link

Leave a Reply