‘مجرم نے کہا جرم کرنا ٹی وی پر کرائم شوز دیکھ کر سیکھا’

’کراچی میں رینجرز نے ہم سے رابطہ کیا کہ ہم نے کچھ خطرناک مجرم گرفتار کیے ہیں۔ تفتیش میں جب ان سے پوچھا کہ جرم ایسی مہارت سے کرنا کیسے سیکھا؟ پڑھے لکھے تو ہو نہیں، نہ تجربہ کار عادی مجرم ہو۔ تو ملزمان نے بتایا کہ ٹی وی پر کرائم شوز دیکھ دیکھ کر یہ جرم سیکھے۔ لہذٰا رینجرز کی اس شکایت پر پیمرا نے کچھ کرائم شوز پرپابندی لگائی۔‘

پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چیئرمین اور صحافی ابصارعالم کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ ملک کی الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ تھے ۔ ان کے بقول ایسی خبریں اب بھی رپورٹ ہو رہی ہیں جن سے مجرمانہ ذہن کے حامل افراد کو جرم کرنے کےراستے پتا چلیں۔مثلاً نور مقدم قتل کیس ہی دیکھ لیں کہ اس کی کیا رپورٹنگ ہو رہی ہے؟ پھر اس کے بعد کراچی میں بھی ایک خاتون کے ایک شہری کا سر کاٹنے کی خبر میڈیا پر چلائی گئی۔

گزشتہ کچھ عرصے کے دوران تواتر سے خواتین کے خؒلاف جرائم کی خبریں میڈیا کی شہ سرخیوں کا موضوع بنتی رہی ہیں۔ اسلام آباد، کراچی، پشاور ، حیدر آباد، اوکاڑہ، وہاڑی اور دیگر شہروں میں خواتین کے خلاف جرائم ہوئے ہیں اور ان کی خبریں رپورٹ ہوئی ہیں۔

خواتین کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں یا ان کی رپورٹنگ میں اضافہ ہو گیا ہے؟ کیاسخت سزاؤں کا نہ ملنا خواتین کے خلاف جرائم میں اضافے کا سبب بن رہا ہے؟ یا جنسی میلاپ پر غیر ضروری پابندیاں اور بچوں کو جسمانی تعلیم سے محروم رکھنا معاشرے میں بڑے جرائم کی بنیاد رکھ رہا ہے؟ یہ اور ان جیسے بہت سے سوال خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے مجرمانہ حملوں سے جنم لیتے ہیں۔

وائس آف امریکہ نے کوشش کی کہ پاکستان میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافے کی وجوہات پر انسانی حقوق کے اداروں ، سماجی شخصیات اور مختلف شعبوں نمایاں خواتین سےبات کی جائے۔

خواتین کے خلاف جرائم کی وجہ تنگ نظری؟

وزیرِ اعظم پاکستان کے مشیر برائے مذہبی امور مولانا طاہر اشرفی معاشرے میں بڑھتی ہوئی مذہبی تنگ نظری کو خواتین کے خلاف جرائم میں اضافے کی وجہ ماننے پر تیار نہیں ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ اس سب کی اصل وجہ ‘مادر پدر آزادی’ کا تصور ہے۔

اُن کے بقول جو بھی یہ کہہ رہا کہ مذہبی رجحانات میں اضافے یا مذہبی ماحول گہرا ہو جانے سے خواتین پر تشدد میں شدّت آتی جا رہی ہے۔تو وہ مذہب سے واقف ہیں، نہ مذہبی تعلیمات کا انہیں کوئی علم ہے۔ اگر وہ دینِ اسلام کو پڑھ لیتے تو وہ یہ بات کبھی نہ کرتے۔

مولانا طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ آپ اگر صرف اس برس کے خلع کے مقدمات کے ہی اعداد و شمار دیکھ لیں تو وہ لاکھوں میں ہیں اور ان میں اکثریت اُن جوڑوں کی ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے یا راہ چلتے رشتے میں منسلک ہوئے لیکن جب خمار اترتا ہے تو نوبت طلاق مانگنے تک آ جاتی ہے۔

اُن کے بقول پیغمبرِ اسلام نے تو کبھی بھی اپنی کسی شریک حیات پر تشدد نہیں کیا، تو یہ کس طرح مذہب کا نام ایسے معاملات میں لیا جاتا ہے ؟ یہ پاکستان میں صرف ایک طبقہ ہے، جن کے اپنے گھر میں کھانا نہ پکانے جیسے موضوعات پر لڑائی ہوجائے، تو بھی یہ لوگ اس کی ذمہ داری مذہب پر ڈالنے لگتے ہیں۔

کیا ریاست خواتین کے حقوق پر سمجھوتا کرتی رہی ہے؟

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (ایچ آر سی پی) سندھ کی کمشنر اور خواتین کے حقوق کی متحرک رہنما انیس ہارون کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف یہ سب کچھ نیا ہرگز نہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انیس ہارون نے کہا کہ 2009 سے 2012 تک چھ یاسات قوانین بنائے گئے جب کہ پہلے بھی قوانین موجود تھے۔ ریاست قوانین بنا تو لیتی ہے مگر اُن کے مؤثر نفاذ میں کبھی سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ان کا دعویٰ تھا کہ جب بھی کسی حکومت کو مذہبی جماعتوں سے سیاسی مدد، اتحاد یا سمجھوتے کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ سب ہمیشہ خواتین کے حقوق کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

انیس ہارون کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتیں خواتین کے حقوق اور آزادی کی مخالفت پر مبنی نظریات رکھتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبرل یا روشن خیال جماعتیں بھی اقتدار کے لیے خواتین کے حقوق پر سمجھوتے کر لیتی ہیں۔ البتہ ان سیاسی جماعتوں کو سوچنا ہو گا کہ انہیں ووٹ دینے والوں میں ایک بڑی اور فیصلہ کن تعداد خواتین کی ہے۔

انیس ہارون سمجھتی ہیں کہ مذہبی انتہا پسندی میں بھی شدّت آتی جاتی رہی ہے، مدارس سے ایک مخصوص سوچ کے حامل افراد کی کھیپ تیار ہورہی ہے، جو ہر ادارے میں دکھائی دینے لگی ہے۔

‘عورت فاؤنڈیشن’ سندھ کی ریجنل ڈائریکٹر مہناز رحمٰن کہتی ہیں کہ مذہبی انتہا پسندی کے بڑھنے کی سب سے زیادہ ضرب عورت پر پڑی ہے۔ پہلی افغان جنگ اور اُس میں پاکستان کی شمولیت کے وقت جب یہ انتہا پسندانہ رجحانات بڑھ رہے تھے تو کہا جاتا تھا کہ یہ چند ’فیشن ایبل خواتین‘ کا خود ساختہ بیانیہ ہے جو مذہبی حلقوں کی مخالفت پر مبنی ہے۔

اُن کے بقول اس انتہائی سوچ کے پھلنے پھولنے کی وجہ سے خواتین پر تشدد میں کس قدر اور کتنا اضافہ ہوا؟ خواتین پر تشدد و بدسلوکی کی کوئی اور وجہ نہیں، سوائے اس کے کہ ہم مذہبی انتہا پسندی کی جانب گئے ہیں۔ کیوں کہ وہ رجحان یہی ہے کہ عورت باندی اور کنیز ہے۔

مہناز رحمٰن کہتی ہیں کہ ایک صحت مند معاشرے میں کھیل ، فن و ثقافت، جمالیات وغیرہ کی سرگرمیوں سے ایک مثبت و صحت مند فضا جنم لیتی ہے مگر سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں جب لڑکیوں کی ایسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کر کے گھٹن پیدا کر دی گئی تو پھر لوگ تشدد و بد سلوکی کی جانب مائل ہوئے۔

عورت فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اب تو لوگ قبر سے لاش تک کو نکال کر جنسی ہوس کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہم کہتے رہ گئے کہ آزادی دیں۔ جنسی تعلیم اور آگہی دیں۔ ورنہ یہی ہو گا اور دنیا نے دیکھ بھی لیا ہے جو اب ہو رہا ہے۔

معاشرہ کب قدامت پسند ہوتا ہے؟

صحافی اور میزبان عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ جب پارلیمان حکومت اور ریاست’وکٹم بلیمنگ’ کرنے لگیں یعنی مظلوم کو ہی موردِ الزام ٹھہرایاجائے کہ خواتین کے کپڑے ایسے ہونے سے یہ سب ہوتا ہے، تو پھر ایک ایسا معاشرہ جسے ‘قدامت پرست’ بنا دیا گیا ہے وہ اس سب کو اسی تناظر میں دیکھتا ہے۔

انیس ہارون کہتی ہیں کہ وکٹم بلیمنگ تب ہوتی ہے جب عقلی دلائل ختم اور منطق ناکام ہوجائے۔

صحافی اور ٹی وی اینکر ماریہ میمن بھی کہتی ہیں کہ یہاں وکٹم بلیمنگ ہوتی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ماریہ میمن کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد اور بدسلوکی پوری دنیا میں ہوتی ہے۔ عورت کے لباس ، پیشے حیثیت سے جرم کا کوئی تعلق نہیں۔

اُن کے بقول قوانین موجود ہیں مگر ملزمان پھر بھی بچ نکلتے ہیں اور معاشرتی خوف مظلوم کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے سے روک دیتا ہے۔ روبوٹ والی بات پر ہر طرف سے ردِ عمل آیا خود عمران خان کی اپنی جماعت سے آیا اور وزیرِ اعظم کو وضاحت کرنا پڑی۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ عمران خان کی حکومت نے وراثت کے حوالے سے تو کافی اچھی قانون سازی کی ہے البتہ جب عمران خان خواتین پر ، چاہے وہ سیاست دان ہوں یا صحافی ، بے جا تنقید کریں ۔ الزام تراشی کریں تو اس سے آگے بھی منفی پیغام جاتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ صورت ِحال تب ہی بہتر ہوسکتی ہے جب خواتین کو مساوی حیثیت سے فیصلہ سازی کا حق اور شمولیت دی جائے۔عمران خان کی 80 وزرا و مشیروں پر مشتمل کابینہ میں صرف دو خواتین ہوں اور فیصلہ سازی میں بھی اُن خواتین کا کردار نہ ہونے کے برابر ہو تو پھر حکومت کی پالیسی صاف دکھائی دیتی ہے۔

میڈیا اور خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ

ٹی وی ٹاک شو کی میزبان ماریہ میمن کہتی ہیں کہ اب بات زیادہ ہونے لگی ہے۔ پہلے خواتین سہم جاتی تھیں مگر اب آواز اٹھائی جاتی ہے۔ پھر خواتین سول سوسائٹی میں آگے بڑھی ہیں ان کی آواز بڑھتی جا رہی ہیں اب وہ چپ نہیں رہتیں۔ پھر کچھ بڑے واقعات ہوئے جیسے کہ موٹروے ریپ کیس یا نور مقدم کا معاملہ ہے جتنی بات اب خواتین کے خلاف جرائم پر ہو رہی ہے پہلے نہیں ہوتی تھی۔

ذرائع ابلاغ کے کردار پر مہناز رحمٰن نے کہا کہ نیوز اینڈ کرنٹ افئیرز میڈیا نے خواتین کے خلاف تشدد کا مقابلہ کرنے کے لیے سول سوسائٹی کا بھرپور ساتھ دیا اور آواز اٹھائی مگر انٹرٹینمنٹ میڈیا یا ڈراموں میں روتی دھوتی ہوئی تشدد کی شکار خواتین دکھائی جاتی ہیں اور وہ عورت بری دکھائی جاتی ہے جو اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتی ہو یا مزاحمت کر رہی ہو۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ جنرل ضیا الحق کے دور میں ایک مخصوص ماحول پیدا ہوا۔ ٹی وی کے ڈرامے تک میں عورت کا کردار اور اہمیت سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ 1980 میں حسینہ معین کے ڈرامے میں بولڈ بہادر لڑکی دکھائی جاتی تھی۔ اب ایک مظلوم تشدد کا شکار لڑکی دکھائی جاتی ہے۔

ابصار عالم کہتے ہیں کہ ہر الزام میڈیا پر لگانا بھی درست نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ابصار عالم نے کہا کہ قانون میں عورت کو جو مقام حاصل ہے وہ عملاً نہیں دیا جاتا۔ البتہ ابصار عالم نے میڈیا کے کردار پر بھی زور دیا۔اُن کے بقول پہلے اخبارات کے زمانے میں لاشوں کی تصاویر شائع ہونے پر پابندی رہی مگر اب ٹی وی پر تو قتل کی سی سی ٹی فوٹیج دکھا دی جاتی ہے کہ لاش یا خون پڑا ہوا ہے۔ تو معاشرے میں تشدد تو بڑھے گا ہی۔

ابصار عالم کے بقول ہر چیز میڈیا پر دکھانے کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔ فلم میں تو تنبیہ ہوتی ہے دیکھنے کے لیے عمر کی حد بتائی جاتی ہے۔ نیوز میڈیا تو سب دیکھ رہے ہیں۔ پھر بعض نام نہاد تجزیہ کار آتے ہیں۔ ان کے ہی رویے انتہا پسند بن گئے اور ٹی وی پر کہتے ہیں کہ فائرنگ اسکواڈ کے حوالے کر دو ۔ ان کے بقول ایسے مطالبے تشدد پر اکساتے ہیں لوگوں کو خود ہی عدالت لگا کر مار ڈالنے کا خیال آتا ہے۔

خواتین کے خلاف جرائم میں سزاؤں کا تناسب کم کیوں؟

انیس ہارون کہتی ہیں کہ خواتین کے خلاف تشدد اور بدسلوکی کے مقدمات کا جائزہ لیں تو عدالتوں سے سزا کا تناسب چار سے پانچ فی صد تک ہوتا ہے۔

اُن کے بقول خواتین تنظیمیں تو صرف آواز ہی اٹھا سکتی ہیں مگر ہم نے قانون سازی تک میں بھی کردار ادا کیا مگر قانون کا نفاذ تو ہم نہیں کروا سکتے، یہ تو ریاست کو ہی کرنا ہے۔ عدالتی اور پولیس اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ ہم تو تاریخ کا پہیہ الٹا گھما رہے ہیں۔

انیس ہارون کہتی ہیں کہ جس ملک کا وزیرِ اعظم یہ کہے کہ مرد روبوٹ نہیں ہوتے، خواتین ایسا ویسا لباس نہ پہنیں تو پھر اس معاشرے میں یہی کچھ ہو گا جو ہو رہا ہے۔

اُنہوں نے سوال اُٹھایا کہ وزیرِ اعظم کے ایسے بیانات سے کیا پرتشدد طبقات کو حوصلہ نہیں ملے گا؟ کیا اس سے خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ نہیں ہو گا؟ لہذٰا ان کے بقول یہ جو ماحول بن چکا ہے اس میں ریاست بھی برابر کی ذمے دار بن رہی ہے۔

بچوں کو جسمانی تعلیم دینا مسئلے کا حل ہے؟

مہناز رحمٰن کہتی ہیں کہ جب تک آپ بچّوں کو اچّھے برے انداز سے چھوئے جانے کی تمیز نہیں سکھائیں گے اُن کو جسمانی علوم (بائیو لو جیکل) تعلیم نہیں دیں گے تو پھر بتائیں کہ قصور کی معصوم بچی زینب جیسے واقعات کیسے رک سکتے ہیں ؟

مہناز رحمٰن نے جنسی تعلیم کی مخالفت کرنے والے حلقوں کا یہ جواز مسترد کردیا کہ کم سن بچّوں کو جنسی تعلیم یا آگہی دینے سے اُن کی معصومیت پر اثر پڑسکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ آپ کو بچّوں کو بتانا پڑے گا کہ کسی کو آپ کے حساس جسمانی اعضا کو ہاتھ لگانے یا چھونے کی اجازت نہیں ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو فوراً والدین یا اساتذہ کو بتائیں یہی تو آگہی ہے اورکیا چیز ہے تعلیم و تربیت ؟ سیکس ایجوکیشن تو اناٹمی یا بائیولوجی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار

وائس آف امریکہ نے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ملتان جاوید اکبر ریاض سے سوال کیا کہ کیا خواتین کو ہر قسم کے جرائم سے تحفظ فراہم کرنے میں انہیں بھی مسائل و مشکلات کا سامنا ہے ؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ چند ایک جرائم ایسے ہیں کہ پولیس بھی ان معاملات پر بہت حساس ہوتی ہے۔ مثلاً اقلیتوں ، بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کے معاملے پر پولیس بہت حساس ہوگئی ہے۔ ان کو ہینڈل کرنے کو پولیس ترجیح دیتی ہے اس وجہ سے لوگ رپورٹ کرنے لگے ہیں اور اسی وقت پولیس حرکت میں آ جاتی ہے۔

اُن کے بقول اس سے پہلے کیسز آزادانہ طور پر رپورٹ نہیں ہوتے تھے۔ اب ہونے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ مواد بھی آرہا ہے اور جرائم پیشہ افراد کو بھی موقع مل رہا ہے ان کی رسائی بڑھ گئی ہے اور جرم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سائبر کرائم میں اضافہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہو رہا ہے۔ پولیس کی تفتیش پر یہ مشاہدہ درست ہے کہ تمام جرائم میں سزا کا تناسب کم ہے۔

جاوید اکبر کہتے ہیں کہ قوانین تو ہیں بلکہ بہت زیادہ ہیں لیکن صرف پولیس ہی نہیں قانون دان برادری ، عدلیہ، سب کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں تفتیش کا دار و مدار تین چار چیزوں پر ہے۔ ثبوت و شواہد اور گواہان موجود ہوں مگر ہمارے ملک میں گواہان کے تحفظ کے انتظام نہیں ہے۔ میڈیکو لیگل کے معاملات بھی ہیں۔ کوئی خاتون شکایت کرے ،تھانے آ کر دعویٰ کرے کہ ان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے تو میڈیکو لیگل معائنہ ہونے میں وقت لگ جاتا ہے۔

اُن کے بقول فارنزک سہولتوں کی کمی ہے۔ خواتین بھی اسی لیے مطمئن نہیں ہوتیں کیوں کہ سہولتیں نہیں ہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ پولیس کی تفتیش متاثر ہوتی ہے۔ افسران و اہل کار کم ہیں وسائل کی کمی ہے۔ یہ سب طویل مدتی معاملات ہیں تمام متعلقہ حلقوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔

سخت سزا کا نفاذ یا قوانین پر عمل درآمد ضروری؟

مہناز رحمٰن کہتی ہیں کہ قوانین تو موجود ہیں مگر جب تک بنیادی خرابیاں دور نہیں کی جائیں گی۔ مثلاً تعلیم عام نہیں جائے گی تب تک کچھ نہیں ہونے والا۔ پاکستان میں معاشرتی طبقات و حلقے اتنے مضبوط نہیں ہیں اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری تو ریاست ہی کی ہے۔ معاشرہ غربت کے ہاتھوں گداگری اور بچّے بیچنے تک پہنچ گیا ہے تو ریاست کو اپنی سمت درست کرنی چاہیے۔

انیس ہارون کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور روائتی میڈیا تو پوری دنیا میں ہے۔ وہاں خواتین کے خلاف ایسا اور اس پیمانے پر تشدد ، بدسلوکی یا جرائم کیوں نہیں ہوتے؟ وہاں کیسے قانون کی عمل داری قائم ہے ؟ تو اصل بات قانون اور اس کا مؤثر نفاذ کی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں پولیس اصلاحات جیسی پیش رفت یا تو ہو نہیں سکی یا پھر مؤثر ثابت نہیں ہوسکی۔ تو ظاہر ہے کہ جرائم بڑھیں گے۔

طاہر اشرفی کہتے ہیں کہ پاکستان کی تمام مذہبی سیاسی قوتوں نے چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ شہری قوانین کے مطابق آپ ریپ اور جنسی جرائم اور اس طرح کے واقعات کے ذمہ دار صرف 10مجرموں کو سزا دے دیں۔ آپ لٹکائیں ، آپ سنگسار کر دیں ، پھر دیکھیں کہ یہ واقعات ختم ہوتے ہیں کہ نہیں ہوتے؟

اُن کے بقول اس پر سروے ہوچکے ہیں کہ فحاشی و عریانی کی ویب سائٹس جرائم میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ان ریپ کرنے والوں کو سرِ عام سزائیں دیں تو اسی وقت یہی جو آج عورت کے حق کی بات کر رہے ہیں وہ انسانی حقوق درمیان میں لے آتے ہیں۔



Source link