مرد اور خواتین کارکنوں کی تنخواہوں فرق کیوں؟

بائیڈن انتظامیہ کے تحت منگل کو مساوی تنخواہ کے دن کے طور پر منایا گیا جس کا علامتی مقصد یہ جانچنا تھا کہ خواتین کو مردوں کی گزشتہ سال کے مساوی اجرت لینے کے لیے کتنی دیر تک کام کرنا ہو گا۔ پچھلے سال یہ دن 24 مارچ کو منایا گیا تھا۔

صدر جو بائیڈن نے وفاقی کارکنوں کی اجرتوں میں مساوات اور شفافیت کو بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا، جس میں ایک مجوزہ ضابطہ بھی شامل ہے جو وفاقی اداروں کو ملازمت کے لیے درخواست دینے والوں کی تنخواہ کی تاریخ کو ملازمت کے عمل میں استعمال کرنے سے روکے گا۔

تنخواہ کی تاریخ سے مراد وہ اجرت ہے جو درخواست گزار اس سے قبل لے رہاتھا۔ تنخواہ کی تاریخ کے استعمال پر پابندی سے ممکنہ طور پر امتیازی اجرت کے دائرے کو توڑنے میں مدد مل سکتی ہے جس سے خواتین اور مختلف رنگ و نسل کے کارکنوں کی ملازمتوں کے طریقہ کار کی بہتری کے راستے کھل سکتے ہیں۔

بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے اپنے بیان میں کہا کہ “یہ مجھے امید ہے کہ یہ ان اقدامات سے تمام نجی پرائیویٹ کمپنیوں کے لیے بھی ایک مثال قائم ہو گی۔”

امریکہ میں خواتین کو اب بھی ایک مرد کے ہر ڈالر کے مقابلے میں 83 سینٹ ملتے ہیں۔ یہ تفریق سیاہ فام، مقامی امریکیوں اور لاطینی خواتین کے ساتھ ساتھ کچھ ایشیائی خواتین کے لیے اور بھی زیادہ ہے۔

پرائیویٹ شعبے میں صنفی اجرت کے فرق نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر مالیات اور سائنس کے شعبوں میں ایک ہی نوعیت کے کام پرمردوں کو خواتین کے مقابلے میں اوسطاً سالانہ 30 ہزار ڈالر زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔

اگرچہ یورپی ممالک میں آجروں کو اپنے مرد اور خواتین ملازمین کی تنخواہوں کے اعداد و شمار کو شائع یا فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، مگر امریکہ کے نجی شعبے تنخواہوں کی شفافیت کی پابندی نہیں کرتے۔ اوباما انتظامیہ نے بڑی کمپینوں میں رنگ، نسل اور جنس کی بنیاد پر کارکنوں کی تنخواہوں میں شفافیت کے لیے کچھ قواعد متعارف کرائے تھے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں بڑے کاروباروی گروپوں کے دباؤ پر انہیں ترک کر دیا گیا۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں معاشیات کی پروفیسر سیما جیا چندرن کا کہنا ہے کہ، “موجودہ انتظامیہ کو ان اقدامات کو دوبارہ شروع کرنا چاہیے۔”

وائٹ ہاؤس نے وائس آف امریکہ کے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ کیا حکام اس قانون کو بحال کرنے کا کوئی منصوبہ رکھتے ہیں۔

بھارت میں اینٹوں کے ایک بھٹے میں خواتین کام کر رہی ہیں۔ فائل فوٹو

بھارت میں اینٹوں کے ایک بھٹے میں خواتین کام کر رہی ہیں۔ فائل فوٹو

تاہم ،نیشنل پارٹنرشپ فارویمن اینڈ فیمیلیز میں اقتصادی انصاف کی سینئر پالیسی قونصل،واسو ریڈی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ستمبر سے بائیڈن انتظامیہ نجی کمپنیوں کے ان اعداد و شمار کا جائزہ لے رہی ہے جو تنخواہوں میں صنفی اور نسلی فرق کو ظاہر کرتے ہیں ۔ریڈی کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ یہ اس قانون کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے۔

منگل ہی کے روز نائب صدر کاملا ہیرس نے جو پہلی خاتون نائب صدر ہیں ،تنخواہوں میں برابری پر ہونے والی ایک ورچوئل تقریب میں شرکت کی ،جس میں انتظامیہ کے عہدیدار، ایتھلیٹس اور اداروں کے سربراہان بھی شریک تھے۔کاملا ہیرس نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ تنخواہوں میں صنفی تفاوت کاروباری معاملہ ہے اور یہ صرف اخلاقی معاملہ نہیں ہے۔

کاملا ہیرس نے کہا کہ اگر ہمیں اقتصادی طور پر ترقی کرنا ہےاور 21ویں صدی میں مقابلہ کرنا ہے، تو ہم اپنی نصف کارکن آبادی کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمیں ایسی معیشت بنانی ہوگی جو عورتوں کےساتھ انصاف برتے۔



Source link