کیا آپ کے پاس بچہ دانی ہے؟



سوشل میڈیا ایک ظالم جگہ ہے جہاں نہ آپ کی زبان پھسلنے پر آپ کو بخشا جاتا ہے نہ دماغ کھسکنے پر۔ یہاں ایسے بہت سے دانا ہیں جو سوشل میڈیا پر تبصرے کرنے سے یونہی کتراتے ہیں کہ کہیں یہ نہ ہو کہ مفت مشورے یا تبصرے کے بعد میر کا مصرعہ دہراتے پھر رہے ہوں کہ ‘اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی۔’

آپ ضرور سوچ رہے ہوں گے کہ بھلا اب کس نے کیا کر دیا؟ تو جناب اس بار برا وقت آیا موسیقار روحیل حیات کا جو سوشل میڈیا پر خواتین کے جھرمٹ میں در آئے۔

ایک وقت تھا کہ جب ماضی میں پاکستان کے سب سے مشہور میوزک بینڈ ‘وائٹل سائنز’ کے کی بورڈسٹ روحیل حیات کی شرمیلی مسکراہٹ پر خواتین جان چھڑکتی تھیں۔

روحیل حیات وہ شرمیلا پن کافی عرصے پہلے تیاگ چکے لیکن اب جب بھی وہ زبان کھولتے ہیں اکثر کسی نہ کسی کی دکھتی رگ پھڑکا دیتے ہیں۔

یہ سیاسی درستگی کا زمانہ ہےایک ایک لفظ تول کے بولنا پڑتا ہے ورنہ لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں جیسا کہ حال ہی میں روحیل حیات کے ساتھ ہوا۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر سوہنی نامی ایک میڈیکل کی طالبہ نے لکھا کہ خواتین میں ہارمونل تبدیلیوں پر زیادہ بات نہیں کی جاتی حالانکہ اس کے ذہنی اور جذباتی اثرات واضح ہوتے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ کتنی عجیب بات ہے کہ انہیں رونا آرہا ہے کیونکہ ان کے اندر کیمیائی تبدیلیاں ہورہی ہیں اور وہ اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتیں۔

اس کے جواب میں ایک اور خاتون صارف نے لکھا کہ ماہواری یا اس سے قبل کے دنوں میں وہ غم،غصہ اور جذبات سے مغلوب ہوتی ہیں، پیرڈز یقیناً ایک تھکا دینے والا عمل ہے۔

اسے پڑھ کر پیشے کے اعتبار سے موسیقار اور ریکارڈ پروڈیوسر روحیل حیات نے شاید سوچا کہ کیوں نہ وہ ان خواتین کو انسانی زندگی کے فلسفے اوراصل مقصد کے بارے میں بتا کر ان کی معلومات میں اضافہ کریں۔

روحیل نے لکھا کہ اس اداسی کے لاشعوری پہلو کو جاننا ضروری ہے، کیونکہ انسانی زندگی کا مرکزی کام اپنی نوع یا نسل کی بقا ہے اس لیے ماہواری کی صورت میں جب عورت کا انڈہ ضائع ہوجاتا ہے تو اس موقعے کے ہاتھ سے نکل جانے کے عورت پر جذباتی اثرات ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ اس بات کا ادراک اور قبولیت خواتین کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

بس پھر کیا تھا ٹوئٹر صارفین انہیں یہ بتاتے نظر آئے کہ وہ جو کر رہے ہیں وہ مدد نہیں ‘مینسپلیننگ’ ہے۔

Mansplaining ایک انگریزی اصطلاح ہے جس کا مطلب کسی مرد کا عورت کو کوئی بات ایسے لب و لہجے یا انداز سے بتانا ہو جو متکبرانہ ہو یا ایسا محسوس ہو کہ وہ خاتون بیوقوف ہے یا کچھ نہیں جانتی۔

روحیل کو جواب دیتے ہوئے گلمینے نامی صارف نے لکھا کہ ‘قبولیت مددگار ہوتی ہے” جیسے الفاظ بے آرام اور تکلیف میں تڑپتی عورت کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔

روحیل نے ان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ خواتین شکایت کرتی ہیں کہ مرد سمجھتے نہیں اور جب کوئی خیال کرنے والا ملے تو سب اس پر حملہ کر دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کے نفسیاتی پہلو کے بارے میں بتا رہے تھے اور ہر تکلیف ایک پرسکون دماغ کے ساتھ کم کی جا سکتی ہے۔

شمیلہ غیاث نامی صارف نے انہیں لکھا بھائی ماہواری کے دوران اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ مٹلشمرز، اینڈو میٹریوسس، ڈسمینوریا جیسے الفاظ گوگل پر سرچ کریں تاکہ ان کی معلومات میں اضافہ ہو سکے۔

شمیلہ غیاث سے ایک دو پیغامات کے تبادلے کے بعد روحیل نے انہیں لکھا کہ یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ کوئی کوشش نہ کریں اور یونہی چڑ چڑی اور بےزار رہیں۔

ایک اور خاتون صارف نے لکھا کہ روحیل حیات خواتین کو یہ سکھائیں کہ ماہواری کی تکلیف کو کیسے کم کیا جائے، یہ دنیا کی آخری چیز ہوگی جو وہ چاہیں گی۔

وکیل اسامہ خلجی نے لکھا کہ ‘روحیل بھائی کیا آپ کے پاس بچہ دانی ہے؟’

بس اس طرح روحیل اور دیگر صارفین مستقل ایک دوسرے کو ماہواری کے بارے میں کچھ نہ کچھ سکھانے اور سمجھانے کی کوشش کرتے رہے۔

کیونکہ سوشل میڈیا پر ہر شخص ہی خود ساختہ ماہر ہے ہم نے سوچا کہ ہم کیوں نہ اس موضوع کے حقیقی ماہر سے ہی بات کر لیں کہ ماہواری سے جڑی تکلیف، اداسی، چڑ چڑے پن اور جذباتیت کا سبب کیا ہے۔

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں کنسلٹنٹ اوبسٹیٹریشین اور گائناکالوجسٹ ڈاکٹر سلوه ندیم کا کہنا ہے کہ ماہواری سے کچھ روز قبل بہت سی خواتین میں جسمانی اور جذباتی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ جب یہ آثار تواتر سے ہر ماہ پیش آتے ہیں تو انہیں پری مینسٹروئل سنڈروم

(pre menstrual syndrome) کہا جاتا ہے اور اس کی وجہ ماہواری کے سائیکل کے دوسرے حصے میں ریلیز ہونے والا ہارمون پروجیسٹرون ہوتا ہے۔

ڈاکٹر سلوه کے مطابق اس دوران بہت سی خواتین میں سر درد سے لیکر پیٹ پھولنے، تکلیف، چڑ چڑے پن، اداسی اور ڈپریشن جیسے آثار پائے جا سکتے ہیں۔

دوسری طرف خواتین اور تولیدی صحت کی ماہر ڈاکٹر روبینہ طاہر کا کہنا ہے کہ پری مینسٹروئل سنڈروم کی اصل وجہ معمہ ہے۔ ویسے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ان تبدیلیوں کی وجہ ہارمونز ہیں مگر خواتین جب تکلیف میں ڈاکٹرز کے پاس آتی ہیں تو اکثر یہی ہارمونز دیکر ان کی تکلیف کم کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔تاہم ہر خاتون میں یہ علامات مختلف ہوتی ہیں اور انہیں کنٹرول کرنے کے لیے ٹریٹمنٹس بھی مختلف ہی آزمائی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر روبینہ طاہر کہتی ہیں کہ روحیل حیات کی رائے کی بنیاد تو وہ نہیں جانتیں لیکن اگر اس اداسی، چڑچڑے پن، ڈپریشن اور تکلیف کی یہی وجہ ہوتی جو انہوں نے بیان کی تو پھر ہر خاتون میں یہ علامات پائی جانی چاہیے تھیں۔

ڈاکٹر سلوه ندیم کے مطابق PMS کی ایک اور وجہ بھی بتائی جاتی ہے۔ سیراٹونن ہارمون کو بعض دوسرے ہارمونز کے ساتھ انسان کی خوشی اور موڈ اچھا رکھنے کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ سیراٹونن، ماہواری سے قبل ریلیز ہونے والے ہارمون پروجیسٹرون کا اثر لیتا ہے اور نتیجے میں خواتین موڈ اور مزاج میں تبدیلیاں دیکھتی ہیں۔

ابھی یہ تحریر مکمل ہی ہونے لگی تھی کہ روحیل حیات کی تازہ ٹویٹ پر نظر پڑی گئی۔ آج اس بحث کے تیسرے روز روحیل حیات نے خواتین کی اسی گفتگو پر آکر لکھا:

”’میں امید کرتا ہوں کہ اس مشکل وقت میں آپ کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔ اس بحث میں شامل ہو کر مجھے اندازہ ہوا کہ اس بارے میں میرا علم محدود تھا اور میں دعا کرتا ہوں کہ میں دوسرے مردوں کے ساتھ مل کر اسی طرح بات چیت سے خواتین کے مسائل کو بہتر طور پر جان سکوں”۔

خواتین تو ان کی یہ معذرت ممکن ہے بخوشی قبول کر لیں مگر اب کہیں مرد نہ ان سے ناراض ہو جائیں کیونکہ بالی ووڈ کے مشہور ‘ڈان’ کو پکڑنے کی طرح سوشل میڈیا پر سب کو خوش رکھنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔



Source link