‘ہمارا گھر اور یہ ملک عورت کے دم سے چلتا ہے’

“یہ ملک خواتین کے دم سے چلتا ہے اگر ایک دن تمام وہ عورتیں جو محنت مزدوری کرتی ہیں گھر بیٹھ جائیں تو اس ملک اور شہر کا نقشہ بدل جائے گا۔سڑکوں، محلوں کو صاف رکھنے، اسپتال کی صفائی سے لے کر ایئرپورٹ، اسٹیشن، دفاتر، گھر کی صفائی کا ایک بڑا حصہ ہم عورتوں پر مشتمل ہے۔سو چیں اگر ہم عورتیں ایک روز یہ کام نہ کریں تو کیا ہوگا؟ لیکن وہ کیا ہے ناں کہ ہمارا کام نظر نہیں آتا جب کہ ہم بھی گھر چلا رہے ہیں پیٹ پال رہے ہیں۔ میں یہاں اس لیے آئی ہوں کہ بتاسکوں کہ میں کون ہوں میری اہمیت کیا ہے۔ میں صرف ایک جھاڑو لگانے والی نہیں میں ایک محنت کش عورت ہوں۔”

یہ کہنا ہے رقیہ بانو کا جو سینی ٹیشن ورکر ہیں اور آٹھ مارچ کو کراچی میں ہونے والے خواتین مارچ میں دوسری بار شریک ہوئی ہیں۔

ماہی گیری سے وابستہ براہیم حیدری کی رہائشی رحیمہ بھی پہلی بار کسی ایسے مارچ کا حصہ بنی ہیں۔

اُن کے بقول “اب سمندر میں ٹرالر آنے سے اور آلودگی ہونے سے مچھلی کم ہوگئی ہے۔ پہلے پھر بھی گزارا ہوجاتا تھا لیکن اب بہت تنگی ہے، میں یہاں پہلی بار آئی ہوں تاکہ جن عورتوں کے ساتھ نا انصافی ہورہی ہے ان کی آواز میں اپنی آواز ملا سکوں۔ اسی لیے میں اپنے ساتھ اور بہت سی خواتین کو ساتھ لائی ہوں۔

رحیمہ کی طرح منگل کو کراچی کے خواتین مارچ میں بہت سی خواتین پہلی بار شریک ہوئیں۔

انہی میں رخسانہ (فرضی نام) بھی ہیں جو پہلی بار یہاں کیماڑی سے اپنے علاقے کی دیگر خواتین کے ہمراہ پہنچی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ “کرونا میں میرے شوہر کا کام ختم ہوگیا تو سارا بوجھ میرے اوپر آ گیا میں سلائی کا کام کرتی ہوں جس سے گزر بسر نہیں ہوتا۔ہم عورتوں کو معلوم بھی نہیں کہ ہم کہاں کام کرکے بہتر روزگار کماسکتے ہیں اتنی محنت کرو تو بھی چند روپے ہی ہاتھ آتے ہیں۔ مجھے یہ تو پتہ تھا کہ ہر سال عورتیں احتجاج کرتی ہیں آج پہلی بار اپنے سامنے دیکھ رہی ہوں۔’

کراچی میں عورت مارچ کے منتظمین میں شامل سماجی کارکن شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ اس برس کا موضوع، اجرت، تحفظ اور سکون رکھا گیا ہے۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری خواتین جو کسان ہیں، محنت کش، مزدور یا دفاتر میں کام کرنے والی ہی کیوں نہ ہو ں انہیں اور ان کے کام کو نہ تو قبول کیا جاتا ہے، نہ سراہا جاتا ہے، نہ ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔

اُن کےمطابق کئی تو ایسے بھی کام ہیں جن کی اجرت سرے سے ہی نہیں ہے۔ جن خواتین کو معاوضہ یا اجرت مل بھی رہی ہے وہ یا تو آدھی ہوتی ہے یا مردوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔تحفظ کے حوالے سے ہمارا ماننا ہے کہ خواتین جہاں بھی کام کرتی ہیں انہیں وہاں ہراساں کیا جاتا ہے اس کے لیے کام کی جگہوں کو محفوظ بنانا ضروری ہے۔

بہتر ٹرانسپورٹ خواتین کے لیے بڑا مسئلہ

زویا کا تعلق متوسط طبقے سے ہے ان کے مطابق انہیں سب بڑا مسئلہ خواتین کے لیے ٹرانسپورٹ کی کمی کا ہے۔ شہر میں بسیں انتہائی کم ہیں جو میسر ہیں ان کی حالت بہتر نہیں ایک عورت چاہے وہ کام کے لیے نکلے یا پڑھنے کے لیے اس کو ایک بہتر اور آرام دہ ٹرانسپورٹ چاہیے اس ملک کی ہر عورت کریم اور اوبر تو افورڈ نہیں کرسکتی۔ صرف ایک بہتر اور محفوظ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے سبب بھی عورتوں کے لیے مواقع محدود ہوجاتے ہیں۔

ہر برس فرئیر ہال میں ہونے والے عورت مارچ کا مقام اس برس تبدیل ہوا ہے۔ اس سال پانچویں عورت مارچ کو شہر کے وسط یعنی باغ جناح میں منعقد کیا گیا جو اپنے سیاسی جلسوں اور گہاگہمی کے سبب خاصا مقبول ہے۔

منتظمین کے مطابق جگہ کی تبدیلی کا ایک مقصد اس تاثر کو رد کرنا تھا کہ یہ مارچ صرف مراعات یافتہ طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس بار یہاں پنڈال سجانے کا مقصد شہر کے ہر اطراف سے یہاں خواتین کی با آسانی رسائی کو ممکن بنانا تھا۔

منتظمین کے مطابق گزشتہ برس کرونا کی صورتِ حال نے بھی لوگوں کو آنے سے روکے رکھا لیکن اس مارچ میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سن 2018سے عورت مارچ کا باقاعدہ آغاز ہوا اس مارچ کے ہونے اور اس میں اٹھنے والے مسائل، پلے کارڈ، بینرز خاص کر میرا جسم میری مرضی کے نعرے نے ایک نئی بحث کا آغاز کردیا تھا۔

مارچ کے اختتام پر کئی کئی ہفتوں اس پر بات ہونا ایک معمول بھی بنتا گیا لیکن گزشتہ برس اس مارچ کو اس وقت سنگین صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اسٹیج سے منتظمین کی جانب سے پدرشاہی نظام اور عورتوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف لگائے جانے والے نعروں کو اگلے ہی کچھ دنوں میں توہینِ مذہب سے جوڑ دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے نیچے چلنے والے عبارتیں مارچ میں لگنے والے نعروں سے متضاد تھیں۔ لیکن اس سارے معاملے نے عورت مارچ کی منتظمین کے لیے ایک نئے خطرے کو جنم دیا۔

سندھ کے شہر سانگھڑ کے ایک چھوٹے سے گاوں دیوان لعل چند سے شامو بائی خاص طور سے اپنا کلام پیش کرنے عورت مارچ میں شریک ہوئیں وہیں ابراہیم حیدری سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ نے اسٹیج پر خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد پر اپنی ساتھیوں کے ساتھ ریپ سانگ پیش کیا جسے لکھا بھی ان کی دوستوں نے تھا۔

وہی دوسری جانب خواتین کی ایک بڑی تعداد رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس ہاتھ میں پلے کارڈ اٹھائے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ جس میں جبری گمشدگیوں، جبری تبدیلیٔ مذہب، وراثت میں حصہ نہ ملنے، کم عمری کی شادی، ریپ اور تشددکے خلاف نعرے درج تھے۔

شہر کو خواتین کی آمدورفت کے لیے محفوظ بنانے کے لیے ایک پلے کارڈ ” جتنی سڑک تمہاری اتنی سڑک ہماری”، راستہ چھوڑئیے اب ہم آ رہے ہیں، تو ” بیوی نہیں وکیل بننا ہے مجھے” جیسے نعرے بھی درج تھے۔ ہراسانی کے خلاف اٹھائے جانے والے پلے کارڈز میں ” ہاتھ تھا مو اجازت سے” اور ” عورت ہوں تمہارے باپ کی جاگیر نہیں ” بھی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

مارچ میں ٹرانس جینڈرز کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے اپنے اوپر ہونے والے جنسی تشدد اور صنفی امتیاز کے خلاف آواز بلند کی۔ ان ٹرانس جینڈرز سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان کی پہلی ٹرانس ڈاکٹر سارا گل نے اسٹیج پر آکر ایک نظم پڑھی۔

عورت مارچ میں مردوں کی بھی شرکت

مارچ میں جہاں ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین موجود تھیں وہیں مرد بھی اس کا حصہ نظر آئے۔

مارچ میں شریک محمد سلیم جو اپنی اہلیہ کے ہمراہ آئے تھے ان کا کہنا تھا کہ ہم جس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں وہ فرسودہ روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہے اسے ختم ہونے میں وقت لگے گا۔ ہم نے وقت کے ساتھ سیکھا بلکہ اپنی بچیوں سے بھی سیکھا کہ ان کے ساتھ کیا مسائل رہے ہیں جنہیں ہم نے ہمیشہ ہی نظر انداز کیا۔

اُن کے الفاظ میں “ہمارے معاشرے میں جس طرح سے عورتوں کو کمتر سمجھا جاتا ہے یہ زیادہ عرصے نہیں چل سکتا۔ کیونکہ عورت ہی ہے جو مرد کے کیے گئے غلط فیصلو ں اور عمل کا نقصان بھگتتی ہے۔”

اسی مارچ میں شریک ایک خاتون عظمی نورانی بھی تھیں جن کے مطابق، میں اس مارچ میں اس لیے آئی ہوں کہ میں اپنا عورت ہونا سیلیبریٹ کروں اور ساتھ اس بات کا بھی احتجاج کروں جو حقوق میرے تھے وہ مجھے بڑھاپے تک کیوں نہیں ملے۔

اُن کا کہنا تھا کہ “میں یوں تو ایک ایسے طبقے سے تعلق رکھتی ہوں جسے ہر سہولت حاصل ہے لیکن اس کے باوجود سڑک پر چلنا، بازاروں میں جانا میرے لیے آسان نہیں تھا، کام کی جگہ پر میرے عورت ہونے کی وجہ سے مسائل رہے۔ مجھے یہ اجازت نہیں تھی کہ میں اپنی مرضی سے تعلیم جاری رکھ سکوں۔

یو ں تو ہر طبقے کی عورت الگ مسائل اور کہانیاں لے کر اس مارچ میں شریک ہوئیں کئی چہروں پر چند لمحے کی خوشی تو کئی پر حیرانگی بھی واضح نظر آئی۔ لیکن جو بات مشترک تھی وہ ان عورتوں کی توانائی اور کچھ کرنے کا عزم تھا۔

یہاں شریک ماہی گیر، مزدور، محنت کش عورت سے لے کر وکیل، ڈاکٹر، طالبہ، ورکنگ وومن، ٹرانسجینڈر سب نے ہی ایک مطالبہ کیا کہ انہیں تحفظ اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے جو حقوق ریاست انہیں دیتی ہے اس پر عملدر آمد کروایا جائے تاکہ وہ بھی اپنے آپ کو دوسروں کے برابر محسوس کرسکیں۔



Source link