یورپی پارلیمنٹ کے تحت افغان خواتین کے دن کی تقریبات کا انعقاد

یورپی پارلیمنٹ یکم فروری کو افغان خواتین کےحقوق اور معاشرے کے لیے ان کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے تقریبات کا انعقاد کر رہی ہے، جسے “افغان خواتین کے دن” کا نام دیا گیا ہے۔

ان تقریبات میں پارلیمنٹ کے سال برائے 2021 کے سخاروف ایوارڈ کے لیے منتخب ہونے والی ممتاز افغان خواتین، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔

تقریب کے دوران افغان خواتین کو درپیش اس تکلیف دہ اور کٹھن حالات کو بھی زیر بحث لایا جائے گا جس کا انہیں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین پر پابندیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب کابل میں ان شٹل کاک برقعوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جو دو عشرے قبل طالبان کی حکمرانی کے پہلے دور میں دکھائی دیتے تھے۔ فائل فوٹو

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین پر پابندیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب کابل میں ان شٹل کاک برقعوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے جو دو عشرے قبل طالبان کی حکمرانی کے پہلے دور میں دکھائی دیتے تھے۔ فائل فوٹو

یہ تقریبات منگل یکم فروری کو برسلز میں پارلیمنٹ کی عمارت اور دیگر کئی مقامات پر منعقد کی جائیں گی۔

اس کانفرنس میں پارلیمنٹ کی صدر روبرٹا میٹسولاٹی بی سی، خواتین امور کی سابق افغان وزیر سیما سمر شرکت کریں گی جب کہ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیرلیین، اور اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل امینہ محمد کا ریکارڈشدہ پیغام سنوایا جائے گا۔

تقریب کا اختتام افغان گلوکارہ اور نغمہ نگار آریانہ سعید کے اپنے نغمے، لیڈی آف دی لینڈ آف فائر اور ان کی تقریر کے ساتھ ہو گا۔

افغان گلوکارہ اور نغمہ نگار آریانہ سعید بھی یوروپی پارلیمنٹ کے تحت ہونے والے خواتین کے دن کی تقریبات میں حصہ لے رہی ہیں جہاں وہ اپنا مشہور نغمہ لیڈی آف دی لینڈ آف فائر پیش کریں گی۔

افغان گلوکارہ اور نغمہ نگار آریانہ سعید بھی یوروپی پارلیمنٹ کے تحت ہونے والے خواتین کے دن کی تقریبات میں حصہ لے رہی ہیں جہاں وہ اپنا مشہور نغمہ لیڈی آف دی لینڈ آف فائر پیش کریں گی۔

مرکزی کانفرنس کے علاوہ اس دن کی مناسبت سے منگل اور بدھ کو ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا جائے گا جن میں افغانستان سے منسلک مخصوص مسائل، جیسا کہ مستقبل کے تناظر میں وہاں موجود خواتین اور جلاوطنی اختیار کرنے والی خواتین کارکنوں کی کیسے مدد کی جائے کا احاطہ کیا جائے گا۔

ان ورکشاپس میں افغانستان کی صورت حال کے عینی شاہدین سے ملاقات، افغان فلم ساز ساحرہ کریمی کی فلم ” حوا، مریم عائشہ” کی نمائش اور نوجوانوں کا ایک سمینمار بھی منعقد کیا جائے گا۔



Source link